لاہور سے لاپتہ ہونے والی خاتون صحافی دو برس بعد بازیاب

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ لاہور سے سوا دو برس قبل اغوا ہونے والی خاتون صحافی زینت شہزادی کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

لاپتہ افراد کے کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے زینت شہزادی کی بازیابی کی تصدیق کی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھیں پرسوں شب افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے سے بازیاب کروایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ غیر ریاستی عناصر اور ملک دشمن خفیہ اداروں نے انھیں اغوا کیا تھا اور انھیں ان کی تحویل سے ہی بازیاب کروایا گیا۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ ان کی رہائی میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے قبائلی عمائدین نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

تاحال زینت یا ان کے خاندان کے جانب سے ان کی رہائی یا اس سے جڑے واقعات کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ جب لاہور میں زینت شہزادی کی رہائش گاہ پر پہنچے تو وہاں تالا لگا ہوا تھا۔ ان کے ایک ہمسائے نے بتایا کہ وہ لوگ تقریباً ایک ہفتے قبل وہاں سے جا چکے ہیں اور زینت کی والدہ نے کچھ عرصہ قبل انھیں بتایا تھا کہ انھیں زینت کے بارے میں اطلاعات ملی ہیں اور وہ پر امید ہیں۔

زینت شہزادی لاہور کے ایک مقامی چینل کے لیے کام کرتی تھیں۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم وکیل حنا جیلانی کے مطابق زینت شہزادی 19 اگست 2015 کو اس وقت لاپتہ ہوئی تھیں جب رکشے میں دفتر جاتے ہوئے دو کرولا گاڑیوں نے ان کا راستہ روکا، مسلح افراد نکلے اور انھیں زبردستی گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔

اس واقعے کے اگلے دن زینت کی جبری گمشدگیوں کے کمیشن میں پیشی تھی۔

اغوا سے پہلے وہ بھارتی شہری حامد انصاری کی پاکستان میں گمشدگی کے کیس پر کام پر رہی تھیں اور انھوں نے ممبئی میں حامد کی والدہ سے رابطہ کرنے کے بعد ان کی جانب سے جبری گمشدگی کا مقدمہ دائر کیا تھا۔

زینت کی گمشدگی کے دوران گذشتہ برس مارچ میں ان کے بھائی صدام نے بھی خودکشی کر لی تھی اور ان کی والدہ نے بی بی سی اردو کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ زینت کی طویل گمشدگی سے دلبرداشتہ ہو گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: