یوم تاسیس، عوام سے کارکنان تک — تحریر عمیر دبیر

ملکی تاریخ میں 18 مارچ 1984 کا دن سیاسی میدان میں ایک نئی جہد ثابت ہوا کہ طلباء تنظیم کی قیادت کرنے والے نوجوان لڑکوں نے نشتر پارک میں جلسہ سجایا، اتفاق سے اُس روز مطلع ابر آلود تھا اور بارش کے قوی امکان تھے اس لیے لوگوں کا گماں تھا کہ شاید عوام جلسے میں شرکت نہ کریں۔

بلیک اینڈ وائٹ نشریات کے دور میں بھی صحافی ، کیمرہ مین، رپورٹر، جلسہ کی کوریج کے لیے موجود تھے، دوپہر تین بجے پہلے سیاسی جلسے کا باقاعدہ آغاز کیا گیا ، اُس سے قبل  ایم کیو ایم (مہاجر قومی موومنٹ) کے علاقوں میں بننے والے کارکنان قافلوں ، ٹولیوں کی صورت میں براستہ لیاقت آباد ہوتے ہوئے نشتر پارک پہنچے، شرکاء کو خوش آمدید کہنے کے لیے مختلف مقامات پر کیمپ بھی لگائے گئے تھے جہاں صرف مہاجر نام کے نعرے گونجتے سنائی دیے۔

جلسے کے آغاز کے بعد جب مہاجر قومی موومنٹ کے پہلے چیئرمین عظیم احمد طارق نے تقریر شروع کی تو آسمان سے ابرِ رحمت بوندا باندی کی صورت میں برسنے لگا، انہوں نے جلسے کے اغراض و مقاصد جلدی جلدی بیان کیے اور تقریر کو مختصر کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ بارش کی وجہ سے اب میں قائد تحریک اور آپ کے درمیان زیادہ دیر حائل نہیں ہوسکتا۔

الطاف حسین نے ڈائس سنبھالا اور تقریر کا آغاز کیا تو بوندا باندی اب بارش میں تبدیل ہوچکی تھی، یہی جلسہ تھا جہاں پہلی بار پن ڈراپ سائیلنس ہوا، جلسے میں شرکت کے لیے لوگوں کے قافلے مسلسل آرہے تھے کہ اچانک بارش بہت تیز ہوگئی، الطاف حسین نے تقریر کی اور ایسا فکر و فلسفہ بیان کیا کہ پنڈال میں بیٹھے لوگوں کو بارش نے ڈسٹرب تک نہ کیا۔

اب معاملہ بہت عجیب تھا کہ مائیک پر نوجوان الطاف حسین موجود تھے، پنڈال میں لگائے جانے والے اسپیکرز پر اُن کی آواز گونج رہی تھی، ساتھ آسمان گرجنے کا سلسلہ جاری تھا، لوگ تقریر میں اس قدر محو ہوئے کہ جلسے میں شرکت کرنے والے خود بتاتے ہیں اور مورخین نے لکھا ہے کہ بارش کا پانی شرکاء کے ٹخنوں تک آگیا تھا مگر  فرشی نشست پر بیٹھے لوگ ان سب حالات کے باوجود ٹس سے مس نہ ہوئے۔

خیر یہ تو تھا پہلا جلسہ جس نے تاریخ بدلی اور ایم کیو ایم کا قیام وجود میں آیا، ہر سال 18 مارچ آتی گئی اور کارکنان کے ساتھ عوام کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی یہ سلسلہ غالباً 2013 تک جاری رہا اُسی دوران کچھ لوگوں کی طرف سے ایسی حرکات و سکنات دیکھنے میں آئیں کہ لوگ مجبور ہوکر جلسے والے روز چھپ جاتے تھے تاکہ کوئی زبردستی انہیں جلسہ گاہ لے کر نہ جائے۔

ایک وقت تو ایسا بھی آیا کہ جلسہ گاہ کے اندر موجود لوگوں کو قناعتیں لگا کر بند کردیا گیا اور حکم نامہ جاری ہوا کہ جب تک پروگرام ختم نہیں ہوتا انہیں ہٹایا نہیں جائے گا، اتفاق یہ ہے کہ یہ حرکتیں اور زبردستی کرنے والے آج ایم کیو ایم کے بنائے جانے والے دھڑوں میں شامل ہیں جن میں پی ایس پی قابل ذکر ہے ۔

آج یعنی 18 مارچ کو ایم کیو ایم نے اپنا 34واں یومِ تاسیس منایا جو بالکل منفرد اور عجیب تھا، کیونکہ یہ دن پچھلے سال دو دھڑوں نے  منایا تھا تاہم اس بار پی آئی بی ، بہادر آباد اور لندن میں علیحدہ علیحدہ منایا گیا، یاد رہے کہ تینوں دھڑے ایک دوسرے کے شدید مخالف ہیں۔

ایم کیو ایم کے 23 اگست کو بننے والے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کے گروپ نے لیاقت آباد 10 نمبر کے پُل پر جلسہ کیا، 5 فروری کے بعد کنویئر بننے والے خالد مقبول صدیقی نے نشتر پارک میں جلسہ کیا اور بانی ایم کیو ایم نے لندن کے علاقے ایجویئر میں یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب کیا۔

پی آئی بی اور بہادر آباد کے جلسوں میں کارکنان، بلدیاتی نمائندوں، اراکین اسمبلی نے شرکت کی، بتدریج فاروق ستار گروپ کا جلسہ بہادرآباد کے مقابلے میں اچھا رہا تاہم اہم بات یہ ہے کہ ان دونوں تقاریب میں عوام نے شرکت نہ کی بلکہ مخصوص کارکنان ہی شریک ہوئے۔

دوسری طرف ایم کیو ایم لندن کی جانب سے سجائی جانے والی یوم تاسیس کی تقریب میں اوورسیز یونٹ کے کارکنان، ذمہ داران اور لندن میں مقیم اردو بولنے والوں نے شرکت کی ، ساتھ ہی پنجاب سے تعلق رکھنے والے برطانوی ٹی وی کے صحافی (طاہر گورا)، جرمن اردو ٹی وی کے معروف نوجوان پاکستانی صحافی اور شاعر (عاطف توقیر)، عوامی نیشنل پارٹی کے مرحوم رہنماء اجمل خٹک کے صاحبزادے ایمل خان خٹک نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم لندن نے اس پروگرام کو فیس بک پر لائیو کیا جسے اب تک یعنی 19 مارچ رات 12:40 تک 1 لاکھ 33 ہزار لوگ دیکھ چکے جبکہ 21 ہزار سے زائد صارفین نے حمایت اور مخالفت میں کمنٹس دیے جبکہ 3100 لوگوں نے اسے شیئر کیا۔

اگر اعداد و شمار کا اندازہ لگایا جائے تو  تیسری اور فیس بک پر چلنے والی تقریب میں صرف کارکنان نہیں بلکہ عام عوام نے بھی کسی نہ کسی طریقے سے شرکت کی۔۔۔ باقی فیصلہ آپ کے ہاتھ میں خود ہی ہے۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: