سنہ 1980 کی دہائی میں پاکستانی انڈسٹری میں منفرد لباس و انداز کے ساتھ آکر پاپ میوزک متعارف کرانے والے گلوکار سلیم جاوید نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو شیطانی میوزک انڈسٹری میں نہیں لانا چاہتے۔
کینیڈا میں مقیم صحافی نجیب فاروقی کے ایکس اسپیس پر معروف گلوکار سلیم جاوید نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور شرکا کے مختلف سوالات کے جوابات دیے۔
سلیم جاوید نے بتایا کہ ماضی میں جب مہیش بھٹ اور مکیش بھٹ پاکستان آئے تو انہوں نے اپنے گھر کھانے پر دونوں کو مدعو کیا، ضیافت کے بعد بھارتی اداکار و ہدایت کار نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے بارے میں سنا ہے اپنا کوئی گانا سنائیں۔
سلیم جاوید نے بتایا کہ میں نے اپنے دو گانے انہیں سنائے تو وہ حیران ہوئے اور دونوں آڈیو کیسٹ اپنے ساتھ لے کر اس وعدے کے ساتھ گئے کہ یہ انکی فلم میں نشر ہوں گے، پھر ممبئی حملے اور پاک بھارت کشیدگی کے باعث معاملہ التوا میں پڑ گیا۔
انہوں نے بتایا کہ پھر جب پوجا بھٹ پاکستان آئیں تو میں نے دونوں گانے سی ڈی میں کر کے بھیجے مگر پھر انہوں نے بتایا کہ اب یہ پرانے ہوگئے، آپ کچھ نیا کر کے بھیجیں۔
سلیم جاوید کے مطابق پھر یہ طے ہوا کہ وہ نیپال پہنچ کر مجھے اپنے خرچے پر بلائیں گے جہاں گانے ریکارڈ کیے جائیں گے مگر شاید ایسا قسمت میں ممکن نہیں تھا۔
ایک سوال کے جواب میں سلیم جاوید کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو میوزک کیطرف لانا نہیں چاہتے کیونکہ اس وقت نہ صرف غیر معیاری کام ہورہا ہے بلکہ شیطانی کام بھی ہورہا ہے تاہم انہوں نے بتایا کہ میرا ایک بیٹا آڈیو انجینئر ہے وہ بہت اچھا کام کررہا ہے مگر دین کی سمجھ بھی رکھتا ہے اور اسے بہت تمیز ہے۔
سلیم جاوید نے انکشاف کیا کہ ان کے گانوں کو کاپی کر کے بالی ووڈ فلموں میں غیر کسی کریڈٹ کے شامل کیا گیا۔افلاطون میں جگنی میکا سنگھ نے گایا، شیدی جامبو، رقص میں سارا جہاں (سلمان خان کی فلم) میں شامل کیا گیا۔
سلیم جاوید نے بھارت کے ورسٹائل گلوکار ارجیت سنگھ کو پسندیدہ گلوکار قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ مختلف آواز کا مالک اور پسندیدہ گلوکار ہے، اسکی آواز میں سوز ہے، اس نے محسوس کیا اور اپنی آواز کو تبدیل کرنے کیلیے بہت محنت کی۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے بھنگڑا ماسٹر نے کہا کہ عاطف بھی اچھا گلوکار ہے، اس کو دیکھ کر کئی لوگوں نے کاپی کیا۔
سلیم جاوید نے کہا کہ گلوکار دو طرح کے ہوتے ہیں، اسٹوڈیو اور اسٹیج ۔۔۔۔ کچھ لوگ بغیر مائیک کے بہت اچھا گاتے ہیں۔ تینوں چیزیں اگر کسی کو ملیں تو یہ اللہ کا انعام ہے۔
اپنے کیریئر کے سب سے بڑے کنسرٹ کے بارے میں سلیم جاوید نے کہا کہ حیدرآباد میں ایم کیو ایم کی طرف سے ایک پروگرام میری زندگی کا سب سے بڑا کنسرٹ تھا، اس میں لاکھوں لوگ شریک تھے جبکہ پنڈال کے اندر اور باہر تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔
سلیم جاوید نے بتایا کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنی بھرپور شرکت کو یقینی بنانے پر کام کررہے ہیں جبکہ وہ جلد یوٹیوب کی دنیا میں بھی قدم رکھیں گے جہاں پر ان کے تمام گانوں کی کلیکشنز موجود تھی۔
سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی گئی ویڈیوز کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان پر ہم اسٹرائیک بھیجنے پر بھی غور کررہے ہیں، بالخصوص انہیں اسٹرائیک بھیجیں گے جو بغیر کریڈٹ کے چیزیں چلارہے ہیں۔
سلیم جاوید نے مداحوں کی جانب سے ملنے والی محبتوں کو رب کا خصوصی تحفہ قرار دیااور بتایا کہ انہیں آخرت یا رب کو جواب دینے کی فکر ستاتی اور ہر دم یہ خیال رہتا ہے۔
دو گھنٹے سے زائد وقت تک چلنے والی اسپیس کے اختتام پر سلیم جاوید نے فرمائش پوری کرتے ہوئے اپنا گانا ‘تم میرے ہو’ سنا کر حاضرین کے دل بھی جیتے اور خوب داد سمیٹی۔
