پی ایس ایل فائنل، اسٹیڈیم پرچھت کیوں‌ نہیں‌ لگائی گئیں؟

کراچی: نیشنل اسٹیڈیم میں 9 سال بعد کرکٹ کی رونقیں بحال ہوئیں کروڑوں روپے ترقیاتی کاموں کے لیے خرچ ہوئے مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ آج اسٹیڈیم میں چھتوں کی جگہ جالا کیوں لگایا گیا تھا؟۔

یہ بات ہے سن 1989 کی جب نیشنل اسٹیڈیم میں پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے مابین اہم میچ کھیلا جارہا تھا، میچ شروع ہوا تو منوج پربھارکر نے پاکستانی بیٹنگ لائن اڑا کر رکھ دی۔

پاکستانی بلے باز رمیز راجا، سلیم ملک، میاں داد، تینوں کو خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے اور آؤٹ ہوکر پویلین لوٹے، اس وقت اسکور بورڈ پر کچھ یہ صورتحال تھی کہ بھارتی باؤلر نے پانچ اوورز میں پانچ رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں۔

میچ جاری تھا کہ مختلف انکورز میں بیٹھے کراچی کے نوجوان لڑکے اسٹیڈیم میں لگے پولز پر بندروں کی طرح چڑھ گئے اور کچھ تو اس قدر جذباتی ہوئے کہ وہ چھت پر پہنچ گئے۔

تمام ہی لڑکوں کے پاس ایم کیو ایم یعنی مہاجر قومی موومنٹ کے پرچم تھے، چھت پر چڑھنے والے لڑکے نے جیسے ہی غازی بن کر پارٹی کا جھنڈا لہرایا تو یک دم اسٹیڈیم میں قائد تحریک (الطاف حسین) کے حق میں قرار داد منظور ہوئی اور پھر فلک شگاف نعرے بلند ہونے گلے۔

اس کے بعد پورا اسٹیڈیم نعرہ نعرہ نعرہ مہاجر، جیے جیے جیے مہاجر سے گونج اٹھا۔ مہاجروں اور الطاف حسین کی حمایت میں لگنے والے نعروں کا سلسلہ ایک گھنٹے تک جاری رہا۔

اب اسٹیڈیم کے باہر اور اندر صورتحال بہت خراب ہوچکی تھی، پولیس نے نعرے لگانے والوں پر شیلنگ شروع کی تو تماشائیوں کی طرح سے بوتلیں، پلے کارڈ، چپلیں چلنے کا سلسلہ شروع ہوا پھر انتظامیہ کو ہنگامہ آرائی کے باعث میچ روکنا پڑ گیا تھا۔

ممکنہ طور پر آج ماضی کی ایسی صورتحال سے محفوظ رہنے کے لیے یہ اقدامات کیے گئے ہوں باقی جن لوگوں کو 1989 نیشنل اسٹیڈیم میں ہونے والا پاک بھارت میچ یاد ہے وہ آپ کو واقعہ اور آج کے فائنل کے منتظمین ہی آپ کو بتا سکتے ہیں کہ شدید گرمی کے باوجود آج اسٹڈیم میں چھتیں کیوں نہیں لگائی گئیں؟

تجزیہ: عمیر دبیر


یہ اسٹوری محض تجزیات کی بنیاد پر شائع کی جارہی ہے جو درست یا غلط ہوسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: