تحریک لبیک کے دھرنے کا چوتھا روز، خادم رضوی نے مطالبات منظور نہ ہونے پر بڑی دھمکی دے ڈالی

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)تحریک لبیک یارسول اللہ کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی نے حکومت کو مطالبات کی منظوری کے لئے مزید دو دن کی مہلت دے دی ،جمعہ تک مطالبات منظور نہ ہوئے تو احتجاج اور دھرنوں کا دائرہ کار ملک گیر سطح تک پھیلا دیا جائے گا جبکہ موجودہ دھرنا مسلسل جاری رہے گا ،تحریک لبیک کی جانب سے مہلت سے حکومت کو فوری ریلیف تو حاصل ہوا ہے تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ علامہ خادم رضوی کے سخت گیر موقف سے حکومتی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے ۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق داتا دربار لاہور کے باہر تحریک لبیک کا احتجاج اور دھرنا مسلسل جاری ہے جبکہ تحریک لبیک کی جانب سے حکومت کو 4اپریل کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد علامہ خادم حسین رضوی اور پیر محمد افضل قادری نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا دھرنا مطالبات کی منظوری تک ختم نہیں ہو گا تاہم حکومت کو دی جانے والی ڈیڈ لائن میں مزید دو دن کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

تحریک لبیک کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم نے ان سے دودن کا وقت مانگا ہے اس لئے تحریک لبیک اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان جمعہ کے روز کرے گی ۔واضح رہے کہ اس سے قبل تحریک لبیک کی جانب سے 4اپریل کے الٹی میٹم کے ختم ہونے سے پہلے ہی داتا دربار سے ملحقہ سڑکوں اور علاقوں کو ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کر دیا تھا اور سیکیورٹی بھی مزید بڑھا دی ہے۔

دوسری طرف ڈپٹی کمشنر لاہور سمیر سید کا ’’بی بی سی اردو ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مظاہرین سے کہا گیا ہے کہ وہ داتا دربار کے بجائے ناصر باغ میں احتجاج کر سکتے ہیں کیونکہ موجودہ مقام مظاہروں کے لیے نہیں ہے،علاقے میں دفعہ 144 کا نفاذ ہو چکا، اس کے ہوتے ہوئے کسی قسم کا اجتماع نہیں ہو سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک اسلام آباد پولیس نے علامہ خادم حسین رضوی کی گرفتاری کے لیے کوئی باضابطہ اطلاع نہیں دی جبکہ اس سے قبل پنجاب حکومت کے ترجمان ملک محمد احمد خان نے مقامی نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علامہ خادم حسین رضوی کی گرفتاری میں مشکلات درپیش ہیں ،اگر انہیں گرفتار کیا گیا تو فیض آباد دھرنے جیسی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔ترجمان پنجاب حکومت نے کہا کہ وزیر قانون رانا ثناء اللہ لاہور میں دھرنا قیادت سے بات چیت کر کے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور امید ہے کہ اس مرتبہ دھرنا اسلام آباد تک نہیں جائے گا۔


خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: