بیلٹ باکس کا چیمئن دوبارہ آئے گا، دیوانے کا خواب مرجھائے گا

آج سے 25 سال قبل ایک دیوانے کا خواب تھا کہ جب پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ / پیپلزپارٹی میں سے مختلف سیاسی جماعت یا گروپ بن سکتے ہیں تو ایم کیو ایم کے کیوں نہیں بن سکتے۔ اسی پالیسی و مقصد کے تحت 90ء کی دہائی میں ایم کیوایم حقیقی کے نام سے گروپ تشکیل دیا گیا اور مکمل تحفظ فراہم کر کے حقیقی گروپ کو  شہر بھر میں کھلا لائسنس دیا گیا اور پھر چئیرمین عظیم احمد طارق کو ایم کیو ایم قائد سے منحرف کرواکر دوسرا گروپ تشکیل دینا چاہا مگر چند ماہ بعد ہی عظیم احمد طارق کے قتل کے باعث وہ گروپ  وہی دم توڑگیا۔

کچھ عرصے بعد عامر خان ، آفاق کی سربراہی میں تشکیل پانے والا گروپ مکمل سپورٹ حاصل ہونے کے باوجود الطاف حسین اور ان کی جماعت ایم کیوایم کو توڑنے میں ناکام رہا، ایک وقت تھاکہ 92کی دہائی میں  ایسا محسوس ہورہا تھا کہ الطاف حسین اور ایم کیوایم کبھی واپس نہیں آسکے گی۔ اسی  تناظر میں مخالفین کی جانب سے کامیابی کے راگ الاپے جانے لگے کہ الطاف حسین  کا باب ختم ہوگیا۔

اس دوران خاموش کارکنان آپریشن کی سختیاں، معاشی استحصال برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ ثابت قدم رہے اور  تمام سازشوں کا سامنا کرتے رہے، وقت گزرتا رہا اور قدرت ایک بار پھر الطاف حسین مہربان ہوئی جس کے بعد وہ عوامی طاقت کے ساتھ ابھر کر سامنے آئے۔

آج سے 25 سال قبل شہر کراچی میں شروع ہونے والا آپریشن کلین اپ کسی نہ کسی صورت 2013 تک جاری تھا کہ ستمبر 2013 میں ایک بار پھر ماضی میں کھیلے جانے والے کھیل کو دہرایا گیا اور ایک بار پھر باقاعدہ مہاجروں اور ایم کیوایم کے اتحاد کو ختم کرنے اور تقسیم کرنے کے لیے کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن کی آڑ میں مخصوص لوگوں  کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

کراچی میں ایم کیوایم کے ہزاروں مہاجر نوجوانوں کو سیاسی وفاداری تبدیل نہ کرنے اور اپنے لیڈر کا ساتھ دینے کے جرم میں پابند سلاسل کردیا گیا، سینکڑوں لاپتہ اور درجنوں ماوراۓ عدالت قتل کیے گئے، مسلسل زیادتیوں پر دوسرے صوبوں اور شہروں میں رہنے والوں کی جانب سے امن کے شادیانے بجائے جانے لگے، اس دوران کوئی کراچی کو فتح کرنے آنپہنچا تو کوئی کراچی کو یتیم سمجھ کر پلان دینے لگا مگر جب تمام تر سختیوں کے باوجود این اے 246 کے ضمنی انتخابات میں بھاری اکثریت سے الطاف حسین کا امیدوار کامیاب ہوا تو اسکے بعد الطاف حسین کا مکمل بلیک آوٹ کا فیصلہ کیا گیا اور انکے بیانات کی مکمل نشرواشاعت پر پابندی لگادی گئی۔

الطاف حسین کا خطاب سننے پر سینکڑوں بےگناہ کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا، مکمل بلیک آوٹ کے باوجود الطاف حسین کا پیغام عوام تک پہنچایا جاتا رہا اور جب  بلدیاتی انتیخابات کے نتائج سامنے آۓ  تو ایک بار پھر  تھنک ٹینکس کے کے پیروں سے زمین کھسک گئی اور انہوں نے نئے پلان کے تحت مصطفی کمال و انیس کو میدان میں اتارا الطاف حسین پر سالوں سے لگے جانے والے الزامات دہراۓگئے جسے عوام نے بری طرح مسترد کردیا تھا۔ پیرا شوٹ انٹری کی ناکامی کے بعد ایم کیو ایم قائد الطاف حسین کی پریس کلب کراچی پر ہونے والی 22 اگست 2016 کی تقریر  پر چند گھنٹے کی گرفتاری نے ﮈاکٹر فاروق ستار و دیگر  کے سیاسی قبلے اور طرزسیاست کو تبدیل کردیا سالوں کی رفاقت کو چند گھنٹوں میں بھلادیا گیا اور اپنے ہی بانی سے اعلان لاتعلقی کیا اور نیا گروپ تشکیل دے دیا۔

اب صورتحال یہ ہے کہ اسکرپٹ پر بنائے جانے والا پہلا گروہ الطاف حسین کے خلاف زہر اگل رہا ہے تو دوسرا آرٹیکل 6 کے تحت پھانسی کا مقدمہ کررہا ہے مگر آج بھی وہ لوگ جنہوں نے سرکاری عہدے، اسمبلی کے ٹکٹ اور سینیٹ کے چکر نہیں لگائے وہ اپنی جگہ پر ڈٹے نظر آرہے ہیں اور وہ بانی تحریک کے علاوہ کسی کو کچھ بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

شہری سندھ میں عوامی سطح پر یہ راۓ عام ہے کہ ایم کیو ایم کے بانی شخصیت نہیں بلکہ نظریہ ہیں  جنہیں ختم کرنا ناممکن ہے جبکہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کے پاس منشور نہیں بلکہ ایک کے پاس تین مارچ تو دوسرے کے پاس 23 اگست کی باتیں ہیں، مستقبل میں کیا کرنا ہے یہ دونوں میں سے کوئی نہیں جانتا۔

دونوں جماعتیں اب تک کئی کارنر مٹینگز، جلسے اور ٹی وی ٹاک شوز کرچکے ہیں تاہم سیاسی مدبرین عوامی سطح پر پذایرائی دیکھتے ہوئے کچھ بھی کہنے سے قاصر نظر آتے ہیں کیونکہ شہری سندھ میں بیلٹ باکس کی پذیرائی کا چیئمئن ایک ہی شخص نظر آتا ہے جس کا فیصلہ 2018 کے انتخابات میں ہوجاوے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں:

2 تبصرے “بیلٹ باکس کا چیمئن دوبارہ آئے گا، دیوانے کا خواب مرجھائے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں