Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے کیسے نکلا، اندرونی کہانی سامنے آگئی | زرائع نیوز

زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے کیسے نکلا، اندرونی کہانی سامنے آگئی

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کے قریبی دوست زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالے جانے کی اندرونی کہانی جیو نیوز نے پتہ لگا لی۔

دو روز قبل زلفی بخاری عمران خان کے ساتھ عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جا رہے تھے کہ ایف آئی اے نے ان کا نام بلیک لسٹ میں شامل ہونے کے باعث انہیں سفر سے روک دیا تھا۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ امیگریشن حکام نے بلیک لسٹ میں نام ہونے کی وجہ سے زلفی بخاری کو سفر کرنے کی اجازت نہیں دی تھی لیکن عمران خان زلفی بخاری کو ساتھ لے کر جانے پر اصرار کرتے رہے۔

ذرائع کے مطابق عمران خان تین گھنٹے سے زائد ایئرپورٹ پر زلفی بخاری کے لیے انتظار کرتے رہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکرٹری داخلہ نے نگران وزیر داخلہ کی ہدایت پر زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکال کر انہیں سعودی عرب جانے کے لیے سفر کرنے کی اجازت دی۔

نگران وزیر داخلہ عمران خان فاؤنڈیشن کے بورڈ ممبر نکلے

ذرائع کا بتانا ہے کہ نگران وفاقی وزیر داخلہ اعظم خان عمران خان فاؤنڈیشن کے بورڈ ممبر نکلے اور ان کا نام عمران خان فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ پر بطور بورڈ ممبر موجود ہے۔

ذرائع کے مطابق اعظم خان نے 11-2010 میں لاہور میں عمران خان فاؤنڈیشن کی بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ میں شرکت بھی کی تھی۔

دوسری جانب نگران وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ عمران خان نے امدادی کارروائیوں کی مہارت پر مجھے فاؤنڈیشن میں شمولیت کی دعوت دی تھی۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ عمران خان فاونڈیشن میں رضاکارانہ طور پر دکھی لوگوں کی خدمت کی لیکن 2011 کے بعد عمران خان فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی کسی بھی میٹنگ میں شرکت نہیں کی۔

اعظم خان کا کہنا ہے کہ دیگر خیراتی اداروں میں بھی دکھی انسانیت کے لیے کام کر چکا ہوں۔

بشکریہ جیو


خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔