اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے اپنا اور بیٹی کے استقبال کیلیے نہ پہنچنے والے شہباز شریف سمیت دیگر رہنماؤں سے علیحدگی اختیار کرلی۔
انتہائی متعبر ذرائع نے بتایاہے کہ میاں نوازشریف نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت اپنی پارٹی کے بااعتماد ساتھیوں خواجہ سعد رفیق، خواجہ آصف، احسن اقبال کے حالیہ کردار پر سوالیہ نشان لگایا ہے اور وہ امید رکھتے تھے کہ استقبال کے لیے وہ لاہور ایئرپورٹ ضرور پہنچیں گے تاہم اس موقع پر کوئی لیگی رہنما ان کے استقبال کے لیے لاہور ایئرپورٹ نہ پہنچ سکا اور نہ ہی پاور شو دکھانے کے لیے اپنی قیادت کو قائل کرسکا۔
نواز شریف نے مریم نواز کے داماد راحیل منیر، چوہدری تنویر، خرم دستگیر، مشاہد اللہ و دیگر لوگوں ٹاسک دیا ہے کہ وہ روز مرہ کی اپ ڈیٹس سے متعلق بمعہ پروف آگاہ کریں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ راحیل منیر کے ساتھ نوازشریف نے چند منٹ کی علیحدہ ملاقات بھی کی۔
نوازشریف نے اپنی والدہ سے ملاقات میں شہباز شریف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ماں میں نے ہمیشہ جن خدشات کا اظہار کیا انہیں شہباز نے اس بار سچا ثابت کردیا، اسے کیا ضرورت تھی کہ دیر سے نکلے اور راستے میں بے وقت رک کر ٹائم ضائع کرے۔
اُن کا کہنا تھا کہ گلے شکووں کے علاوہ شہباز شریف سے 13جولائی کی ریلی کی فوٹیج مانگ لی اور شہباز شریف اس سلسلے میں تمام ملاقاتوں اور اجلاسوں سے متعلق بھی معلومات مانگ لی ہیں۔ نواز شریف نے شہباز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ماں سے کہا ہے کہ ’ماں آپ گواہ رہنا جو خدشات تھے وہی نکلے ہیں‘۔
اڈیالا جیل میں قید نواز شریف نے شہباز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ماں آپ گواہ رہنا میرے جتنے خدشات شہباز اور ان کی ٹیم سے متعلق تھے ان خدشات کو میری لندی سے آمد کے موقع پر تقویت ملی اور تلخ تجربات کے باوجود شہباز شریف نے ایئر پورٹ پہنچنے کے لئے ریلی تاخیر سے کیوں نکالی ؟ اور جگہ جگہ پزیرائی حاصل کرنے کے لئے بے فائدہ وقت ضائع کیا۔
گزشتہ روز شریف خاندان شہباز شریف کی قیادت میں نواز شریف اور مریم نواز سے ملاقات کے لئے اڈیالہ جیل گئے اس موقع پر نواز شریف نے اپنی فیملی کے افراد سے ہٹ کر شہباز شریف سے گرمجوشی نہ دکھائی۔
والدہ شمیم اختر نے اس موقع پر نواز شریف سے پیار کیا او رکہا کہ میری دعا ہے آپ فتح یاب ہوں گے اور میدان میں اپنی کامیابی کا جھنڈا گاڑیں گے۔
نواز شریف نے مریم نواز کے داماد راحیل منیر ، چودھری تنویر ، خرم دستگیر ، مشاہد اللہ و دیگر لوگوں کو ٹاسک دیا ہے کہ وہ روز مرہ کی اپ ڈیٹس سے متعلق بمعہ پروف آگاہ کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ راحیل منیر کے ساتھ نواز شریف نے چند منٹ کے لئے علیحدہ ملاقات بھی کی۔
خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
