Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
ہم اپنے قلم سے سر قلم کرنا جانتے ہیں!

ہم اپنے قلم سے سر قلم کرنا جانتے ہیں!

میں شکر گزار ہوں اس پنجابی بھائی کی جو سچ لکھ رہا ہے اور اہم وقت پر لکھ رہا ہے، شکر گزار اس لیے نہیں ہوں کہ اس میں میری ذات کا فائدہ ہے بلکہ کچھ یاد آیا کہ میرا بچپن جس محلے، گلیوں میں گزرا ہے وہاں کے حقائق درد ناک ہیں۔

میں نے گھروں میں ادارے کے لوگ آتے دیکھے، نوجوانوں کو بے دردی سے ٹرکوں میں لے جاتے دیکھا، میں نے دیکھا جب بوڑھی ماں اپنے بچے کی گرفتاری پر مزاحمت کر رہی تھی تو کیسے فوجی نے اس کو مارا اور وہ موقع پر دم توڑ گئی۔ میں نے 7 ماہ کی حاملہ کی چیخیں سنی جس کی قمیض کو کھینچا جا رہا تھا۔

ہم حادثاتی مہاجر نہیں، ہم شوقیہ الطافی نہیں بلکہ ہم نظریاتی ہیں اور باشعور ہیں۔ ہم نے تاریخ کے وہ صفحات دیکھے ہیں جن میں ظلم و جبر ہے اور انصاف نہیں۔ ہم موسمی سیاسی مینڈک نہیں جو نکل کر آتا ہے شور مچاتے ہیں، پگڑیاں اچھلتے ہیں، ہم عملی طور پر کام کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور کرتے ہیں۔

ذاتیات پر بات کرنے یا لکھنے کی قائل نہیں ورنہ کچھ لوگ ایک کمنٹ کی مار ہیں پر اتنا ضرور لکھ دوں جو احباب سیاست پر راگ الاپ رہے ہیں ان کی سیاسی تربیت تو دور کی بات عام حالات میں یہ معلوم نہ تھا کہ پاکستان میں وزیرستان بھی کوئی جگہ ہے وہاں کے حالات اور معاملات کی تفصیلات تو دور کی بات رہی۔

ڈگری یافتہ ہونا اگر ذہانت کی شناخت ہوتی تو کیا ہی بات تھی اور آخر میں یہ کہ کاش آپ کے کسی پیغام سے معلوم ہوتی آپ کی سیاسی بصیرت، تربیت، اہلیت! آپ وہ لوگ ہیں جو اپنے احباب کے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کسی فورم پر حق اور سچ کے لیے ڈٹ نہیں سکتے آپ وہ لوگ ہیں جو سیدھی بات کرنے والے سے گھبراتے ہیں۔ چڑتے ہوئے سورج کی پوجا کیجئے پر مت بھولیے ہم اہل زبان بھی ہیں اور اہل قلم بھی۔

تحریر ندا خان یوسفزئی


نوٹ: قلم کار کے ذاتی خیالات اور صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔