طالب طلب کی جمع ہے جو ہماری خواہش کو ظاہر کرتا ہے اور جس میں علم حاصل کرنے کی لگن ہو اسے طالب علم کہا جاتا ہے پر بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب وہ شاگرد رہے نہیں جن میں علم کی طلب ہو ۔
اب تو علم انٹر نیٹ ۔موبائل یا فیس بک تک محدود ہوکر رہ گیا ہے حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو آج کل کے شاگرد نام کے طالب علم رہ گئے ہیں جن کی طلب صرف اچھے مارکس لانا ہوتا ہے اب اس کے لئے پڑھنا ضروری نہیں سمجھا جاتا جو جتنا بڑا نقل کا بادشاہ ہے اس کے مارکس اتنے ہی اچھے آتے ہیں جو ڈگری کے حصول کیلئے اولین شرط سمجھی جاتی ہے.
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ڈگری جو چیٹنگ سے حاصل کی گئ ہو وہ بچہ اسکا اہل بھی ہے یا نہیں ظاہر سی بات ہے جواب نہیں ہی ہوتا ہے پھر یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج کل کے والدین سب کچھ جانتے ہوئے بھی اپنے بچوں کو تعلیم پر توجہ دینے پر زور دیتے ہیں یا ان کی بھی کوشش یہی ہوتی ہے کہ ان کے بچے کے بس امتحان میں سب سے زیادہ نمبر آجائیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے ہم اپنے معاشرے کو کیا دے رہے ہیں قوم کے معمار یا نیٹ، واٹس اپ، فیس بک، گوگل کے بیمار کوئی بھی ٹیکنا لوجی کا استعمال گناہ نہیں پر اسے غلط استعمال کرنا بہت ہی نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
یہ سب ہوا کیسے آج کل والدین نے بچوں کو بگاڑا ہے انکی جائز ناجائز خواہشات کو پورا کرکے سب سے پہلے تو اس پر ظلم یہ کیا جاتا ہے کہ اسے انگریزی اسکول میں بھرتی کردیا جاتا ہے جہاں بچے کے وزن سے تین گناہ زیادہ اسکی کتابوں کا بوجھ ہوتا ہے جسے بچہ اٹھاتے اٹھاتے پہلے مونٹیسوری ، پھر کے جی پھر ون سے لیکر میٹرک تک کلاسز پاس کرنا ہے جو بجائے گھٹنے کے کلاسوں کے ساتھ بڑھتا ہی جاتا ہے اور یہ بوجھ اسے بالآخر تعلیم سے بے زار کردیتا ہے۔
جب اس بچے کا کالج میں ایڈمیشن کروایا جاتا ہے تو یہ بچہ جو تعلیم سے پہلے ہی بیزار ہوتا ہے کالج جانے کو ضروری ہی نہیں سمجھتا اسکے لئے ضروری تو صرف اسکی ڈگری ہوتی ہے جو کسی بھی قیمت پر حاصل کرنا اسکے لئے لازم وملظوم ہوجاتا ہے۔
اگر کراچی کے تعلیمی اداروں کا جائزہ لیں تو سوائے چند پرائیوٹ اداروں کے طالب علموں کی حاضری کا کوئی پرسان حال نہیں اگر بائیو میٹرک کی پابندی نہ ہوتی تو شاید شاگردوں کے ساتھ استاد بھی غیر حاضر ہی رہتے پھر مزید ظلم اسے ہاتھ میں موبائل فون پکڑا دیا جاتا ہے جو اسکے ساتھ مزید ظلم ہوتا ہے۔
https://zaraye.com/abera-hussain/
اب وہ تمام چیزوں میں لگ کر تعلیم کے رموز کو بالکل فراموش کر بیٹھتا ہے پھر ہمیں اس کے پاس ہونے کی فکر پڑ جاتی ہے جو کسی بھی قیمت میں اے ون گریڈ سے کم نہیں ہونا چاہئے یہ سب ایک اچھے خاصے بچے کو تباہ و برباد کرنے کیلئے کافی ہوتا ہے اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں بچوں میں تعلیم کو بوجھ سمجھنے کے احساس کو ختم کرکے تعلیم سے پیار کرنا سکھانا ہوگا اور یہ ذمہ داری صرف استادوں کی ہی نہیں والدین کی بھی ہونی چاہئے اسکے لئے وزیر تعلیم کو ایکشن لیتے ہوئے بستہ کے وزن کو کم کرکے علم کا وزن بڑھانے کی ضرورت ہے ۔
خدارا اپنے بچوں کے ہاتھ میں موبائل لے کر قلم پکڑائیں انہیں مستقبل کا معمار بنائیں معذور نہیں فیصلہ آپکا اپنا۔۔
نوٹ: قلم کار کے ذاتی خیالات اور صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
