اللہ اللہ کر کے انتخابی عمل مکمل ہوا اور تحریک انصاف اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی، اس طرح عمران خان صاحب کی وزیر اعظم بننے کی دیرینہ خواہش بھی پوری ہوگئی۔
انتخابی میدان لگنے سے قبل اور پھر وزیراعظم بننے کے بعد سے اب تک خان صاحب کا ایک جملہ’ میں ان کو رلاؤں گا‘ سوشل میڈیا پر کافی مشہور ہے۔
تحریک انصاف کے چاہنے والے اس جملے کوبہت مثبت نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
جب بھی یہ جملہ سنتا ہوں تو میرے ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ آخر خان صاحب کس سے مخاطب تھے؟ کس کو رلانے کی بات کر رہے تھے؟ کیوں کے موصوف نے ابھی تک کسی کا نام نہیں لیا، خاکم بدہن کہیں وہ عوا م کو مستقبل کے لئے خبردار تو نہیں کر رہے تھے؟
اگر موجودہ حالات دیکھیں تو سب سے زیادہ عوام ہی اس جملے سے اثر انداز ہوتی نظر آتی ہے، حکومت بننے کے بعد تحریک انصاف نے منی بجٹ پیش کر دیا۔کیسا ہے ؟کیا ہے؟کیوں ہے؟یہ تفصیل لکھنے میں تحریر کافی طویل اور اپنی افادیت کہو دے گی لہذا اتنا کہوں گا کہ شاید حکمرانوں نے عوام کو آنسوؤں کے علاوہ اور کچھ نہیں دیا۔
حکومت بنتے ہی دو دن میں دوسو ارب ڈالر پاکستان لانے کا دعویٰ کرنے والے آج عوام سے چندے جمع کرنے کی اپیل کرتے نظر آتے ہیں۔ آئی ایم ایف سے قرضے نہیں لینگے کا وعدہ کرنے والے آج قرضے لینا مجبوری قرار دے رہے ہیں۔
حکومت میں آنے کے بعد تین ماہ تک کوئی بیرونی دورہ نہ کرنے کا اعلان کرنے والے اچانک سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔ تین ماہ میں ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ بھی ویران راستوں پر کہیں گم ہوتا نظر آرہا ہے شاید مہنگائی کی دھند اسے کہیں چھپا دے۔
دوسری طرف کفایت شعاری مہم بھی زور وشور سے جاری ہے۔
سنا تھا صدر ، وزیر اعظم اور وزرا اب فرسٹ کلاس میں سفر نہیں کریں گے، شاید اس ہی لیے وزیر اعظم نے سعودی عرب کا دورہ خصوصی طیارے میں کیا۔ یہی نہیں بلکہ محترم وزیر خارجہ الحاج شاہ محمود قریشی صاحب افغانستان کے دورے پر بھی خصوصی طیارے میں ہی گئے۔
وزیر اعظم ہاؤس کی 102گاڑیاں نیلامی کے لیے پیش کردی گئیں مگر یہ نہیں بتایا گیا کے اب وزیراعظم سفر کیسے کریں گے؟ کوئی موٹر سائیکل خریدی جائے گی یا نیا ہیلی کاپٹر؟
بھینسوں کے فروخت کرنے کا اعلان بھی کردیا گیا ، العرض کہ دلچسپی رکھنے والے خریداروں کے نام ٹینڈر بھی جاری کردیا گیا مگر یہ اعلان نہیں کیا گیاکے اب دودھ کا ٹینڈر کس کو دیا جائے گا اور وہ کہیں بھینسوں کے چارے دیکھ بھال سے زیادہ مہنگا تو نہیں پڑے گا؟
https://zaraye.com/open-letter-to-cjp-martin-quarter/
ڈیم بنانے کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان اور حکومت بہت محنت سے فنڈز اکھٹے کرتی نظر آرہے ہیں مگر وزیراعظم کی رہائش گاہ بنی گالہ کے محل میں رہائش پذیر عمران خان کے ساتھیوں نے خودکتنا فنڈ جمع کروایا؟ یہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔
میرا مقصد موجودہ حکومت پر تنقید کرنا نہیں بلکہ انہیں مطلع کرنا ہے جناب! تیار رہیں آپ کے سو دن مکمل ہونے والے ہیں،اس کے بعد زبانیں، قلم اور کی بورڈز کو روکنا سب کے لیے انتہائی دشوار ہوجائے گا۔
آپ سے عوام کوبہت امیدیں تھیں اور ہیں، بڑے بڑے وعدوں اور دعووں کی بناپر آپ اقتدار تک پہنچے، اب اگر عوام کو حقیقی تبدیلی نظر نہیں آئی تویہ جمہو یت اور ملک کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے اور مایوسی کی صورت میں آخری جمہوری حکومت بھی۔۔۔
سموسوں، پکوڑوں اور مشروبات وغیرہ کی جگہ بسکٹ اور چائے کا استعمال بھی شاید ملک کے مالی مسائل کوحل کرنے میں مدد گارثابت ہوگا مگر عوام کو اپنے مسائل حل کروانے ہیں، جمہور کا احترام کریں اور ووٹرز کا جمہوریت پر یقین برقرار رہنے دیں۔
