عمران فاروق قتل کیس پر چبھتے ہوئے کچھ سوالات… تحریر ابوبکر

آج جب متحدہ قومی موومنٹ کے بانی رہنما عمران فاروق کی 8ویں برسی کا دن ہے توکچھ سوالات میرے ذہن میں پیدا ہوئے جن کے جوابات ازخود ہی تلاش کرنے کی کوشش میں گومگوں ہوگیا مگر آخر میں سوالیہ نشان میرے ذہن پر نقش ہوا۔

سب سے پہلے تو میں یہ بات سوچنے پر مجبور ہوں کہ آخر 8 سال گزر جانے اور دنیا کی بہترین تفتیشی ایجنسی اسکاٹ لینڈ یارڈ یہ کیس حل کیوں نہ ہوسکا؟ آخر وہ کونسی طاقت ہے جو اس کیس کو حل ہوتا نہیں دیکھنا چاہتی؟

یاد رہے 1999 میں جلاوطنی اختیار کرنے والے ڈاکٹرعمران فاروق کے سر کی حکومت پاکستان ساتھ لاکھ روپے قیمت مقرر کی تھی ۔اگر عمران قاروق اتنے بڑے مجرم تھے تو انہیں کبھی پاکستان واپس لانے کی عملی کوشش کیوں نہیں کی گئی؟

https://zaraye.com/dr-imran-farooq-wife-says-something/

عمران فاروق کاقتل لندن میں ہوا،ان کے پاس پاکستانی شہریت نہیں تھی تو یہ کیس پاکستانی عدالتوں میں کس قانون کے تحت سے چل رہا ہے؟

کیس میں نامزد کر کے تین پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا گیا جن پر سہولت کاری اور قتل کے مبینہ الزامات ہیں، زیرحراست افراد میں معظم علی ہیں جنہیں عزیزآباد میں نائن ذیرو کے قریب سے سہولت کار ہونے کے الزام میں گرفتار کیاگیا۔

محسن علی اور خالد شمیم کی 2015 میں چمن سرحد سے گرفتاری ظاہر کی گئی مگر خالدشمیم کی اہلیہ کا دعویٰ ہے کہ خالد شمیم 2011 سے لاپتہ تھے، انہیں اپنے بیٹے کو اسکول چھوڑ کر واپس آتے ہوئے گرفتار کیا گیا اور دو سال بعد گرفتاری ظاہر کی گئی۔

تینوں ملزمان اس وقت ایف آئی اے کی تحویل میں موجود ہیں کیونکہ کیس کا حتمی فیصلہ آنا ابھی باقی ہے۔ 2015میں تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی گئی مگر وہ بھی اب تک شاید کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی۔

https://zaraye.com/mqm-imran-farooq-murder-case/

اگر حکومتِ پاکستان کے پاس عمران فاروق کے قاتل موجود ہیں تو برطانوی حکومت اور اسکاٹ لینڈ یارڈ کو ان تک رسائی کیوں نہیں دی جاتی؟ اسکاٹ لینڈ یارڈ نے اس کیس کی تفتیش کو کیوں بند کر دیا؟ اور سب سے اہم دونوں ممالک عمران فاروق کے قاتلوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے ایک پیج پر کیوں نہ آسکے؟

ہو سکتا ہے اب ان سوالوں کے جواب کوئی مجھے تک پہنچا دے۔ اللہ مرحوم کی مغفرت کرے ، لواحقین کو صبر عطا کرے اور قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچائے ، آمین