اپنی تحریر کا آغاز ایک شعر سے کروں گی
تو زندہ مردے بھی نہ چھوڑے ہم نے
مردوں کے اکاؤنٹ میں دورادیے اربوں ہم نے….
ایک عام آدمی کی زندگی ہے ہی کتنی، اگر عقل و شعور کی آنکھ سے دیکھا جائے تو کم بیش 75 سال لگالی جائے اگر 27 سال کی عمر سے پاکستانی پڑھا لکھا بچہ اپنی کمائی شروع کرتا ہے. اگر پچیس ہزار مہینہ لگایا جائے تو اس حساب سے پوری عمر کی کمائی کل ملاکر ایک کروڑ اٹھسٹ لاکھ بنتی ہے. مگر ایسی عوام جو مرنے کے بعد بھی کمانے لگے۔ عرصہ دراز سے سنتے آرہے ہیں کہ ایک سیاسی جماعت کے رہنما مرنے کے بعد بھی زندہ ہے. صرف یہی نہیں پاکستانی بینک مردوں کے من پسند ہے. چونکہ مردہ بینک کاری نظام صرف اس ملک میں ہی پایا جاتا ہے۔
ایک مثال کچھ عرصہ قبل کی ملاحظہ فرمائیں… اقبال آرائیں جنہیں زندگی کی بازی ہارے چار سال بیت چکے ہیں. مگر اسکے باوجود وہ کاروبار چلائے ہوئے تھے اور خوب چلائے ہوئے تھے کہ چار ارب روپے کماکر اپنے اکاؤنٹ کو چار چاند لگادیے.
جس ملک کے مردوں کے اکاؤنٹ میں بھی چار ارب آجائے اس ملک کو آئی ایم آف سے قرضہ لینے کی کیا ضرورت ہے.
حال ہی میں فالودہ فروش کے بینک اکاؤنٹ میں سوادو ارب روپے کس نے بھیجے؟ تہلکہ خیز انکشاف نے کھلبلی مچا دی تھی.
کراچی کے فالودہ شربت فروش کے بینک اکاؤنٹ میں سوا دو ارب روپے بھیجنے والوں کا پتہ چل گیا ہے اور یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ یہ ٹریڈ اکاؤنٹ ہے جو ٹیکس بچانے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق فالودے والے کے اکاﺅنٹ میں سوا دو ارب روپے کی خطیر رقم کراچی کے ایک بڑے بزنس گروپ نے بھجوائی جسے تفتیش کیلئے طلب کر لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ منی لانڈرنگ کا کیس نہیں بلکہ اسی کی طرز پر ایک نیا کیس ہے،یہ ٹریڈ اکاؤنٹ ہے جس میں 15-2014ءمیں کراچی کے ایک بڑے بزنس گروپ کی جانب سے رقم بھیجی گئی تھی،سال 2016ءمیں سٹیٹ بینک نے اس کی ایس ٹی آر رپورٹ بھیجی تھی لیکن معاملہ تاخیر کا شکار ہوتا رہا تاہم اب فالودہ شربت فروش کو طلب کیا گیا اور اب رقم بھیجنے والے بزنس گروپ کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس طرح کے اکاؤنٹ ٹیکس بچانے کیلئے کھولے جاتے ہیں اور اس ان تحقیقات کے دوران کئی دیگر اکاؤنٹس کا بھی پتہ چلا ہے، اکاؤنٹ کھلوانے کیلئے شہریوں کو کچھ مراعات دی جاتی ہیں اور ان کے نام پر اکاؤنٹ کھول لیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ شربت فروش شہری عبد القادر نے کہاکہ ایف آئی اے کے لیٹرسے اپنے نام پر اکاؤنٹ کھلنے اور 2 ارب روپے کاپتاچلا ہے، معلوم نہیں میرے اکاؤنٹ میں پیسے کیسے ٹرانسفرہوئے؟پولیس بھی میرے گھرکے باہرموجودہے،میں ان پڑھ ہوں مشکل سے اردو میں دستخط کرتاہوں،مجھے یہ کہا جا رہا ہے کہ آپ نے انگریزی میں دستخط کیے، 40گزکے مکان میں رہتاہوں۔
دوسرا واقعہ مزدور کے شناختی کارڈ پر بینک اکاؤنٹ کھولنے کا انکشاف ہوا ہے، جعلی اکاؤنٹ میں کوئی خطیر رقم نہ تھی بلکہ الٹا قرضے کا بوجھ تھا جو سر پر پڑا تو غریب کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔
کورنگی کے رہائشی شاہد کو اپنے نام پر اکاؤنٹ ہونے کا تب پتہ چلا، جب بینک سے لون کی ادائیگی کے لیے کال آئی، جعلی اکاؤنٹ پر کریڈٹ کارڈ بھی لیا گیا تھا،کئی سال قبل اس نے اپنا شناختی کارڈ رشتے دار کو نوکری کے حصول کے لیے دیا تھا، بینک سے رابطہ پر پتہ چلا کہ اکاؤنٹ پر رشتے داروں کا ہی پتہ درج ہے، متاثرہ شہری نے فراڈ کے حوالے سے ایف آئی اے اور بینک کے ہیڈ آفس میں درخواست بھی جمع کرا دی ہے، شاہد کا کہنا تھا کہ معاملے کی تحقیقات کر کے فراڈ میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کیا جائے۔
اس طرح کے پے درپے واقعات نے ہمارے بینکنگ نظام کی خرابیوں کو کھل کر سامنے لایا ہے. حکومت اور بیکنگ کے اداروں کو مل کر اس نظام کی خرابیوں کو درست کرکے مضبوط اور محفوظ نظام لیکر آئے. تاکہ اس طرح کے واقعات سے چھٹکارا حاصل ہوسکے۔
