Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
جمال خاشقجی قتل، سعودی عرب میں‌ شاہی خاندان کی بغاوت، محمد بن سلمان کے گرد گھیرا تنگ | زرائع نیوز

جمال خاشقجی قتل، سعودی عرب میں‌ شاہی خاندان کی بغاوت، محمد بن سلمان کے گرد گھیرا تنگ

ریاض: سعودی شاہی خاندان نے جمال خاشقجی قتل کیس میں نامزد ہونے پر محمد بن سلمان کو ولی عہد کے جانشینی اور حکومتی عہدہ واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔

خبر رساں ایجنسی (اے ایف پی) کے مطابق مطالبہ کرنے والوں میں محمد بن سلمان کے قریبی عزیز شامل ہیں۔

اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ 76 سالہ پرنس احمد بن عبدالعزیز کو مستقبل میں بادشاہ بنانے پر غور کیا جا رہا ہے، پرنس احمد  سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے چچا اور عبدالعزیز کے آخری بیٹے ہیں۔

ذرائع کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے بھی سعودی مشیروں کو احمد بن عبدالعزیز کی تجویز پر ساتھ دینے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

واضح رہے احمد بن عبدالعزیز سعودی بادشاہ شاہ سلمان کے بھائی ہیں اور گزشتہ 40 سال سے ڈپٹی وزیر داخلہ کا عہدہ سنبھالے ہوئے ہیں۔

جمال خاشقجی قتل کیس

واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار جمال خاشقجی ترکی کے قونصل خانے میں جانے کے بعد لاپتہ ہو گئے تھے جس کے بعد تحقیقاتی ٹیموں نے ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ سعودی صحافی کو قونصلیٹ میں قتل کردیا گیا ہے۔

سعودی عرب آغاز میں ان کے قتل کی تردید کرتا رہا تاہم بعد میں بین الاقوامی دباؤ بڑھنے کے بعد اس کی تصدیق کردی۔

جمال خاشقجی کے قتل نے  سعودی عرب اور اس کے مضبوط حکمران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے ایک شدید بحران پیدا کردیا ہے،  امریکی انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) نے انکشاف کیا تھا کہ جمال خاشقجی کے قتل کا حکم سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دیا تھا اور قتل سے قبل امریکا میں سفیر تعینات خالد بن سلمان نے مقتول صحافی کو فون کرکے سعودی سفارت خانے جانے پر آمادہ کیا تھا۔

جمال خاشقجی محمد بن سلمان کے اقتدار میں آنے کے بعد امریکا منتقل ہوئے تھے

جمال خاشقجی ماضی میں سعودی شاہی خاندان کے انتہائی قریب رہے مگر محمد بن سلمان کے اقتدار میں آنے کے بعد سعودی عرب میں صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنان اور حکومت کے ناقدین کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا اور یمن پر جنگ مسلط کردی جبکہ قطر کے خلاف بھی محاذ گرم کیا جس پر جمال خاشقجی نے سعودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کیا۔

محمد بن سلمان کی جانب سے ناقدین کے خلاف کارروائی کے باعث جمال خاشقجی امریکا منتقل ہوگئے اور واشنگٹن پوسٹ میں کالم لکھتے رہے۔

وہ 2 اکتوبر کو اپنی ترک منگیتر سے شادی کرنے کے لیے ضروری دستاویزات بنانے استنبول میں واقع سعودی سفارت خانے چلے گئے جہاں پہلے سے ڈیتھ اسکواڈ ان کے انتظار میں بیٹھا تھا۔