Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
ڈسٹرکٹ سینٹرل کی آبادی 35 لاکھ، کیا ایک اور بلدیہ عظمیٰ بن سکتی ہے؟ | زرائع نیوز

ڈسٹرکٹ سینٹرل کی آبادی 35 لاکھ، کیا ایک اور بلدیہ عظمیٰ بن سکتی ہے؟

کراچی: کے ٹوئنٹی ون نیوز کے پروگرام میونسپل آور نے 7نومبر2018کو یہ خبر شائع کی کہ حکومت سندھ کراچی میں ایک اور بلدیاتی ادارے کو متعارف کرانے جارہی ہے۔

کیا بلدیہ عظمی کراچی کے علاوہ بھی کراچی میں ایک اوربلدیہ عظمی بن سکتی ہے؟

سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی شق 19 کے تحت شیڈول ون کے پارٹ بی میں بلدیاتی اداروں کی تقسیم کا فارمولا لکھا گیا ہے کہ بلدیاتی اداروں کو آبادی کی تعداد کے لحاظ سے مختلف بلدیاتی اداروں میں منقسم کیا جائے۔

شق کے مطابق 35 لاکھ سے اوپر آبادی ہوگی تو بلدیہ کا نام میٹروپولیٹن کارپوریشن ہوگام 3 لاکھ سے 35 لاکھ آبادی کی بلدیہ کا نام میونسپل کارپوریشن ہوگا جبکہ کراچی کے صرف ایک ضلع وسطی (ڈسٹرکٹ سینٹرل) کی آبادی 35 لاکھ سے تجاوز کرچکی۔

ضلع وسطی میں نیوکراچی اور لیاقت آباد زون کی آبادیاں محدود اندازے کے مطابق  کم ازکم 25 لاکھ کے قریب ہیں جبکہ اگر گلبرگ اور نارتھ ناظم آباد زون کی آبادی شامل کر لی جائیں تو آبادی کی تعداد 35 لاکھ کا ہندسہ عبور کر سکتی ہے۔

حالیہ مردم شماری کے بعد ضلع وسطی کی آبادی کا چیک کیا جانا ضروری ہے اور اگر آبادی کی تعداد 35 لاکھ سے زائد پائی گئی تو کراچی میں ایک اور بلدیہ عظمی سامنے آسکتی ہے۔

https://zaraye.com/mqm-pakistan-presser/

میٹروپولیٹن کارپوریشن کے قیام کیلئے بلدیاتی ایکٹ 2013 میں واضح طور پر آبادی کا تعین موجود ہے، سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بلدیاتی ایکٹ کے تحت ضلع وسطی کی آبادی کو چیک کرے اور ایکٹ کے مطابق اقدامات کرے۔