انڈیا کے صوبے ہریانہ کی ایک عدالت نے پاکستان اور بھارت کے درمیان چلنے والی ٹرین سمجھوتہ ایکسپریس پر بم حملے اور آگ لگانے کے الزام میں گرفتار چار ملزمان کو بری کر دیا ہے ۔
سمجھوتہ ایکسپریس پر بم حملہ سنہ ۲۰۰۷ میں کیا گیا جس میں ۶۸ افراد مارے گئے تھے ۔
ٹرین اس وقت انڈیا سے پاکستان آ رہی تھی ۔
ہریانہ میں پنچ کولہ کی عدالت کے جج جگدیپ سنگھ نے مقدمے کا فیصلہ سنایا ۔
اس مقدمے میں ایک شدت پسند ہندو تنظیم کے کارکن سوامی اسیم آنند نامزد تھے ۔
آٹھ ملزمان میں سے ایک کو قتل کر دیا گیا تھا ۔ تین ملزمان مفرور ہیں ۔
اس مقدمے کی سماعت کے دوران ۳۰ گواہ منحرف ہو گئے تھے ۔
پنچ کولہ کی عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ استغاثہ ملزمان کا دھماکے میں ملوث ہونا ثابت نہیں کر سکا۔ اس سے قبل خصوصی عدالت نے ایک پاکستانی خاتون راحیلہ وکیل کی درخواست مسترد کر دی تھی ۔
راحیلہ نے عدالت سے گواہی دینے کے لیے پیش ہونے کی اجازت مانگی تھی ۔
تفصیلات کے مطابق کیس کے مرکزی ملزم سوامی اسیم آنند اور دیگر ملزمان لوکیش شرما، سندیپ ڈانگے اور رما چندر کلسانگرا کو ہریانہ کی انسداد دہشت گردی عدالت نے رہا کر دیا۔
اسیم آنند کا کا تعلق ایک شدت پند تنظیم ابیھنو بھارت سے ہے، سوامی اسیم آنندپر مکہ مسجداور اجمیردرگاہ سمیت دیگرکارروائیوں کا بھی الزام تھا۔
