اسلام آباد: فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان آمد کے موقع پر سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر تنقید کرنے والے صحافیوں سمیت 10 اکاؤنٹس کی انکوائری کا حکم دیا۔
ایف آئی اے نے صحافیوں سمیت مذہبی جماعتوں جن میں طلبا تنظیم شامل ہے کو شامل تفتیش کرنے کا حکم دیا۔
تفتیش کے لیے جاری ہونے والے حکم نامے میں صحافی مطیع اللہ جان، مرتضیٰ سولنگی، اعزاز سید، عمار مسعود، عمر چیمہ، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ احمد وقاص گورایہ، مجلس وحدت المسلمین، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آئی ایس او)، حزت التحریر پاکستان، تعمیر وطن پارٹی اسلام آباد کے اکاؤنٹس چلانے والے شامل ہیں۔
مرتضی سولنگی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر نوٹی فکیشن شیئر کیا اور عمران خان کو مخاطب کر کے کہا کہ ’سعودی صحافی کی تصویر لگانا کون سے قانون کی خلاف ورزی ہے‘۔
سینئر صحافی وسیم عباسی نے لکھا کہ ’جمال خاشقجی کی تصویر لگانے پر قانون کی خلاف ورزی، یہاں بہت زیادہ آزادی اظہار رائے کی سہولت میسر ہے‘۔
عمار مسعود کا کہنا تھا کہ نہ ٹی وی پر کچھ کہا جا سکتا ہے نہ اخبار میں خبر چھپ سکتی ہے نہ کالم شائع ہوتا ہے نہ ٹوئیٹ کی جا سکتی ہے نہ ری ٹوئیٹ ہو سکتا ہے اور اب ڈی پی تبدیل کرنے پر دھمکیاں یاد رہے آذادی اظہار رائے اس ملک کے آئین کا بنیادی جزو ہے۔
