Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
ذوالفقار علی بھٹو کی برسی: سوشل سیکیورٹی کے ڈائریکٹرز کو تین لاکھ روپے دینے کی ہدایت، عدم ادائیگی پر تبادلے کی دھمکی | زرائع نیوز

ذوالفقار علی بھٹو کی برسی: سوشل سیکیورٹی کے ڈائریکٹرز کو تین لاکھ روپے دینے کی ہدایت، عدم ادائیگی پر تبادلے کی دھمکی

لاڑکانہ: پاکستان پیپلز پارٹی کے قائدین نے بانی اور سابق وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی بھی کمائی کا ذریعہ بن گئی۔

روزنامہ سیاسی افق کی رپورٹر کرن راجپوت نے دعویٰ کیا ہے کہ سوشل سیکیورٹی کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن زاہد بٹ جن کے پاس فیڈرل بی ایریا ڈائریکٹوریٹ کا چارج بھی ہے نے تمام ڈائریکٹر صاحبان کو سوشل سیکیورٹی کے کمشنر آفس سے فون کرکے ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے لئے تین تین لاکھ روپے دینے کا حکم جاری کردیا۔

واضح رہے کہ زاہد بٹ نے یہ حکم وزیر محنت غلام مرتضی’ بلوچ کے جانب سے تمام ڈائریکٹرز کو پہنچایا اور واضح پیغام دیا کہ عدم ادائیگی کی صورت میں افسران کا سکھر تبادلہ کردیا جائے گا۔

وزیر محنت کا فرض ہے کہ وہ اس سنگین معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کریں اور بتائیں کہ کیا انہوں نے زاہد بٹ کو رقم کی وصولی کا ٹاسک دیا ہے یا نہیں اگر ہاں تو بتایا جائے کہ شہید بھٹو کی برسی کیا بھتہ کی رقم سے منائی جاتی ہے اور اگر نہیں تو زاہد بٹ کو یہ ہمت کیسے ہوئی کہ وہ تمام ڈائریکٹرز کو رقم پہنچانے کا فون کرے۔

کمشنر سوشل سیکیورٹی کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ اس غلیظ مقصد کے لیے زاہد بٹ کو ان کے آفس کا فون استعمال کرنے کی اجازت کس نے دی؟ اگر یہ واقعہ اُن کے علم میں نہیں تو وہ اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے زاہد بٹ کے اس غیر قانونی عمل پر ان کی باز پرس کریں اور انہیں معطل کرکے انکوائری کریں۔

ملازمین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگر اعلیٰ حکام نے زاہد بٹ کے خلاف اقدامات نہ کیے تو  یہی سمجھا جائے گا کہ رقم وصولی کے پیچھے وزیر محنت غلام مرتضی’ بلوچ اور کمشنر سوشل سیکیورٹی کاشف گلزار شیخ دونوں کا ہاتھ کار فرما ہے۔