Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
مشرف کے قریبی ساتھی حکومتی وزیر بن گئے، بریگیڈیئر اعجاز شاہ کی عسکری و سیاسی خدمات جانیے | زرائع نیوز

مشرف کے قریبی ساتھی حکومتی وزیر بن گئے، بریگیڈیئر اعجاز شاہ کی عسکری و سیاسی خدمات جانیے

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف اور رکن قومی اسمبلی بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کو وفاقی وزیر بنانے کی منظوری دے دی۔

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے جمعہ کے روز بتایا ہے کہ صدر مملکت نے پاکستان تحریک انصاف کے ایم این اے برگیڈیئر اعجاز شاہ کو وزیراعظم کے مشورے پر وفاقی وزیر بنانے کی منظوری دے دی ہے۔

فواد چودھری نے اپنے ٹویٹر اکائونٹ پر لکھا “وزیر اعظم پاکستان کے مشورے پر صدر مملکت نے بریگیڈئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ کو وفاقی وزیر بنانے کی منظوری دی ہے، اعجاز شاہ پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دیں گے۔”

وزیر اطلاعات کے اعلان کے فورا بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے اعجاز شاہ کو وفاقی وزیر بنانے کی مذمت کی اور اس فیصلے کو مسترد کیا۔

برگیڈئیر اعجاز شاہ کون ہے اور پیپلز پارٹی نے ان کی وفاقی وزیر نامزدگی کو مسترد کیوں کی؟

برگیڈئیر اعجاز شاہ پنجاب کے ضلع ننکانہ صاحب کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 118 سے 25 جولائی 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف کے ٹکٹ ایم این اے منتخب ہوئے۔

اُمیدوار اعجاز شاہ نے نون لیگ کی سابق رکن قومی اسمبلی شذرہ منصب کو شکست دی۔

اعجاز شاہ کا شمار سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں سے تھے، اور ان کے دور میں ائی بی کے سربراہ رہے۔

بے نظیر بھٹو نے اکتوبر 2018 میں وطن واپسی پر اپنے استقبالہ جلوس پر خود کش حملے کے بعد ایک خط میں اعجاز شاہ کا نام اس وقت کے پنجاب کے وزیر اعلی چودھری پرویز الہی، اور ائی ایس ائی کے سابق چیف جنرل حمید گل کے ساتھ اپنے اپر ہونے والے حملہ کے ذمہ داران میں لیا تھا۔

اعجاز شاہ ائی ایس کے سابق افسر اور مشرف دور میں پاکستان کے سویلین انٹیلیجنس ادارے ائی بی کے ڈائریکٹر جنرل رہے۔ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد مشرف نے انہیں دو ہزار چار میں آسٹریلیا میں پاکستان کا ہائی کمشنر مقرر کرنے کی کوشش کی تھی لیکن آسٹریلیا نے عیر معمولی اقدام اٹھاتے ہوئے انکی سفارتی تقرری کو مسترد کر دیا تھا ۔

آسٹریلیا میں ہائی کمشنر تقرری میں ناکامی کے بعد مشرف نے انہیں 2004 میں ائی بی کا ڈی جی بنایا اور اس عہدے سے اعجاز شاہ 2008 میں مستعفی ہوئے۔ ان پر مشرف دور میں سیاسی محالفین کے خلاف ائی بی کو استعمال کرنے کا الزام لگتا رہا ہے۔

امریکی صحافی ڈنئیل پرل کے قتل میں ملوث عمر سعید شیخ نے جب اپنے آپ کو آئی ایس ائی کے حوالے کیا تھا تو اعجاز شاہ نے انکی ڈی بریفنگ کی تھی۔

ائی ایس ائی کے سابق ڈی جی جنرل ضیاء الدین بٹ نے 2011 میں الزام لگایا تھا کہ اعجاز شاہ نے اسامہ بن لادن کو ائی بی کے سیف ہائوس میں چھپا کے رکھا تھا۔ تاہم بعد میں ضیاء الدین بٹ اس الزام سے مکر گئے تھے

ؤاضح رہے 2013ء کے عام انتخابات میں اعجاز شاہ کو رائے منصف علی کے مقابلے میں بطور آزاد اُمیدوار ووٹوں کے فرق سے شکست ہوئی تھی۔ تاہم رائے منصب کی وفات کے بعد ضمنی الیکشن میں جب وہ ایک بار پھر بطور آزاد اُمیدوار شذرہ منصف کے مقابلے میں الیکشن لڑے تو صرف 41 ہزار ووٹ حاصل کرتے ہوئے لگ بھگ 30

ہزار ووٹوں کے واضح فرق سے شکست کھا بیٹھے۔ لیکن 2018 کے عام انتخابات میں وہ شزرہ منصب کو ہرا کر ایم این اے بننے مین کامیاب ہو گئے تھے ۔

 

بشکریہ :