اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ایم کیو ایم کے مقتول رہنما ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی سماعت ہوئی جس میں اہم پیش رفت سامنے آئی۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے کیس کی سماعت کی جس میں ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے عدالت میں شواہد مکمل ہونے کا بیان دیا، ایف آئی اے نے سری لنکا سے محسن، کاشف کا منگوایا جانے والا سفری ریکارڈ عدالت میں پیش کیا۔
اس موقع پر وکیل صفائی نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جائے، شاہ رخ ارجمند نے وکیل صفائی کی استدعا مسترد کی۔ نیب پراسیکیوٹر خواجہ امتیاز ، ایف آئی اے کے تفتیشی افسر عظمت عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
آئندہ سماعت پر ملزمان کو 342 کے بیان کیلئے سوالات فراہم کیے جائے گے، خالد شمیم ، معظم علی اور محسن علی سید سمیت تینوں ملزمان عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت گیارہ مارچ تک ملتوی کردی۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کی اہلیہ اور برطانوی گواہان عدالت کو ویڈیو کے ذریعے اپنے بیانات ریکارڈ کراچکے ہیں، معظم علی کی اہلیہ سعدیہ معظم کو امید ہے کہ کیس جلد ختم ہوگا اور تمام افراد کو انصاف ملے گا۔
