عمران فاروق قتل کیس میں‌ اب تک کی سب سے بڑی پیشرفت

راولپنڈی: ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی، عدالت کو اسکاٹ لینڈ یارڈ نے آلہ قتل، سی سی ٹی وی فوٹیج، اینٹ ، 2 تیز دھار چاقو، فنگر پرنٹس، کرائم سین کا خاکہ اور نقشہ سمیت محسن کی تمام دستاویزات پیش کردی گئیں۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جج شاہ رخ ارجمند نے عمران فاروق قتل کیس کی سماعت کی اس دوران اسکاٹ لینڈ یارڈ کے برطانوی گواہان نے عدالت (اے ٹی سی) میں اہم شواہد جمع کرادیے۔

تینوں برطانوی گواہان نے اپنا بیان بھی ریکارڈ کرایا، عدالت میں پیش ہونے والے گوہان میں برطانوی پولیس کے چیف انسپیکٹر، سارجنٹ اور کانسٹیبل شامل ہیں، غیر ملکی گواہان کی آمد کے سلسلے میں جوڈیشل کمپلیکس میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے اور اسلام آباد پولیس کے تازہ دم دستے جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف میں بھی تعینات کیے گئے۔

اس کے ساتھ ہی کیس میں گرفتار تینوں ملزمان خالد شمیم، محسن اور معظم علی کو بھی پیش کیا گیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت میں اپنا بیان قلمبند کرواتے ہوئے چیف انویسٹیگیشن افسر اسٹیورڈ گرین وے نے بتایا کہ عمران فاروق کیس کی تفتیش کا نام “آپریشن ہیسٹار “ رکھا۔

ڈاکٹر عمران فاروق کا برزخ سے خط

چیف انویسٹیگیشن آفیسر نے عدالت میں ملزم محسن علی کی برطانیہ پہنچنے سے متعلق دستاویزات، ای میلز، ان کا تعلیمی ریکارڈ، کالج حاضری ریکارڈ پیش کردیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے آلہ قتل، واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج، ایک اینٹ، 2 تیز دھار چاقو، فنگر پرنٹس کرائم سین کا خاکہ اور نقشہ بھی عدالت میں جمع کرایا۔

معظم علی کی عدالت سے استدعا

ڈان نیوز کے مطابق دوران سماعت ملزم معظم علی نے ایک ہاتھ سے ہتکھڑی کھولنے کی استدعا کی اور بتایا کہ 4 گھنٹوں سے دونوں ہاتھوں پر ہتکھڑی لگی ہوئی ہے ہاتھوں کے درمیان گنجائش بھی کم ہے جس پر جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دیے کہ آپ ابھی بیٹھ جائیں کچھ کرتے ہیں۔

عمران فاروق قتل کیس، معظم علی کی اہلیہ کا سعدیہ معظم کا بڑا انکشاف

اپنا تبصرہ بھیجیں: