کرپشن کا معاملہ، سندھ کے افسران جانوروں کے کروڑ روپے ہڑپ کر گئے

کراچی: سندھ حکومت نے کرپشن کے معاملے میں جنگلی حیات اور جانوروں کو بھی نہ بخشا اور اُس کے نام پر ملنے والے پیسے اپنی شاہ خرچیوں پر اڑا دیے۔
محکمہ لائیو اسٹاک کی گزشتہ مالی سال کی آڈٹ رپورٹ سامنے آئی جس میں ہوشربا انکشافات کیے گئے ہیں۔ آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سندھ کے محکمہ لائیو اسٹاک میں افسران کی شاہ خرچیاں عروج پر ہیں، افسران نے محکمے کا بجٹ جانوروں پر خرچ کرنے کے بجائے اسے اپنے دفتر کی تزئین و آرائش اور گاڑیوں پر لگایا۔
محکمہ لائیو اسٹاک نے ایک سال میں بجٹ کے 1 کروڑ 88 لاکھ روپے اپنی شاہ خرچیوں پر جھونک دیئے، خطیر رقم گاڑیوں کی مرمت ، فرنیچر ، مشینری کی خریداری اور ٹرانسپورٹ میں خرچ کیے گئے،ڈپٹی ڈاریکٹر لائیو اسٹاک کشمور، ڈاریکٹر اینمل بریڈنگ حیدرآباد ، پولٹری ڈاریکٹر نے شاہی خرچے کئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈائریکٹر اینیمل بریڈنگ حیدرآباد نے 20 لاکھ روپے مشینری کی ریپئرنگ کی مد میں ادا کیے، ڈائریکٹر سندھ پولٹری ویکسین نے 93 لاکھ کی وہیکل کی ریپیر کرائی، ڈائریکٹر مٹھی ، پولٹری ویکسین کراچی، ڈی ڈی لائیو اسٹاک مٹیاری ، گھوٹکی ، ٹھٹھہ کے افسران بھی شاہی خرچیوں میں کسی سے پیچھے نہ رہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ’سرکاری رقم سے کئے گئے خرچوں کے بلز بھی جمع نہیں کرائے گئے، گاڑیوں کی مرمت کے بعد اسپیئر پارٹس وغیرہ کا نام و نشان تک نہ ملا جبکہ ضابطہ اخلاق اور قانون کے تحت پرانا پرزہ دفتر میں جمع کرانا ضڑوری ہوتا ہے، ریپئرنگ کرائی گئی مشین کا رجسٹرڈ نمبر بھی نہیں بتایا گیا، افسران نے اخراجات کی حکومت سے این او سی تک نہیں لی۔
