اسلام آباد: پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی اڑان جاری ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد سے اب تک روپے کی قدر میں مسلسل کمی دیکھی جارہی ہے جبکہ وفاقی وزیرخزانہ اور وزیر اعظم قوم کو بلند حوصلے کا درس دے رہے ہیں۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق ہفتے کے روز بھی مارکیٹ میں ڈالرمختلف ریٹس چل رہے ہیں۔ کراچی میں منی چینجرز 142روپے 50پیسے میں ڈالر خرید رہے ہیں اور 143روپے 50 پیسے میں فروخت کررہے ہیں۔
کراچی کے راولپنڈی میں منی چینجر کا کہنا ہے کہ وہ 142روپے 20پیسے میں خرید رہے ہیں اور 142روپے 90پیسے میں فروخت کررہے ہیں۔
مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مزید گر سکتی ہے، امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ ڈالر کی قیمت 144 روپے تک جانے کا امکان ہے۔
گزشتہ روز انٹربینک میں ڈالر کی قیمت 141 اور اوپن مارکیٹ میں 141 روپے 70 پیسے رہی۔
فاریکس ایسوسی ایشن کے مطابق جمعے کے روز انٹربینک میں ڈالر ساٹھ پیسے مہنگا ہوا اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 30 پیسے اوپر گئی۔
پی ٹی آئی کی حکومت کے اقتدار میں آنے سے اب تک ڈالر کی قیمت میں 8 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا جاچکا ہے۔ستمبر 2018 میں ڈالر 134 روپے پر ٹریڈ کررہا تھا اور چھ ماہ میں بڑھ کر 142 روپے پر پہنچ چکا ہے۔
