سندھ ہائی کورٹ نے خانانی اینڈ کالیا اسکینڈل کا 8سال بعد فیصلہ سناتے ہوئے تمام ملزمان کو بری کر دیا۔
ہائی کورٹ نے بینکنگ کورٹ کے فیصلے کے خلاف ایف آئی اے کی اپیل پر فیصلہ سنایا ہے۔
2011 ءمیں بینکنگ کورٹ نے 8ملزمان کو بری کیا تھا جسے ایف آئی اے نے چیلنج کیا تھا۔ وکیل صفائی کے مطابق خانانی اینڈ کالیا اسکینڈل کیس میں ٹرائل کورٹ میں 100گواہوں نے بیانات ریکارڈ کرائے تھے۔
وکیل صفائی حمل زبیدی نے اپنے دلائل میں کہا کہ مقدمہ میں ٹرائل کورٹ میں 100گواہ بلائے گئے۔ 42 گواہان نے ملزمان کے حق میں گواہیاں دی۔
سیشن عدالت میں بھی حوالہ ہنڈی ثابت نہیں ہوئی، الزنونی ایکس چینج دبئی کی کمپنی ہے جسکا ملزمان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دورانِ سماعتڈپٹی اٹارنی جنرل اور ایف آئی کی جانب سےڈپٹی ڈائریکٹر پیش ہوئے۔
منی لانڈرنگ اسکینڈل میں ملزمان 8 کو نامزد کیا گیا تھا۔ ایک ملزم جاوید خانانی نے خود کشی کرلی تھی۔ دیگر ملزمان میں حنیف کالی ،مناف کالیا، جاوید خانانی، عاطف عزیز پولانی شامل تھے۔ مقدمے میں بینکرز سید مسعود عباس ، سید وجاہت علی، تسلیم احمد اور عارف الرحمان کو بھی شامل کیا گیا تھا۔
سندھ ہائیکورٹ نے 11سال بعدمیگا منی لانڈرنگ کے ملزمان بری کردیے۔
یاد رہے کہ مذکورہ مقدمہ پیپلزپارٹی کے دورِ حکومت میں قائم کیا گیا تھا، افواہیں تھیں کہ سابق صدر آصف زرداری نے خانانی اور کالیا سے بھاری رقم دینے کا مطالبہ کیا تھا جسے انہوں نے مسترد کردیا تھا، اُس کے بعد اس کمپنی کے خلاف اقدامات کیے گئے۔
