بانی ایم کیو ایم کی نفرت انگیز تقریر کا معاملہ، برطانوی ٹیم عینی شاہدین کے انٹرویو لینے پہنچ گئی، نفرت انگیز تقریر کے 6 عینی شاہد گواہان اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے، گواہی کی صورت میں برطانوی ٹیم تقریر کے نفرت انگیز ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرے گی۔
اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) بانی ایم کیو ایم کی نفرت انگیز تقاریر پر اُن کے گرد مزید گھیرا تنگ کرنے کی تیاری کی جارہی ہے، لندن سے خصوصی ٹیم اسلام آباد پہنچ گئی جو 6 گواہان کے بیانات قلم بند کرے گی۔ تفصیلات کے مطابق بانی ایم کیوایم کی 22 اگست 2016 کی تقاریرکاجائزہ لینےبرطانوی ٹیم گزشتہ شام بجے کی پرواز سے اسلام آباد پہنچی۔ ٹیم میں برطانوی کاؤنٹر ٹیررازم کمانڈمیٹروپولیٹن بھی شامل ہیں۔
محکمہ داخلہ نےگواہوں،تفتیشی افسران کواسلام آبادطلب کرلیاجبکہ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کو کیس کے تفتیشی افسران،گواہان کے ساتھ پہنچنے کی ہدایت کی گئی، تمام 6گواہان کا تعلق سندھ اور کراچی سے ہے۔
تفتیشی افسر نے برطانوی حکام کو مقدمے سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے خط ارسال کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کو مقدمے کی مزید پیروی کے لیے برطانوی پولیس کی مدد درکار ہے۔ خط میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ برطانوی پولیس بانی ایم کیو ایم کیخلاف شواہدجمع کررہی ہے، برطانوی پولیس نے ایف آئی اے کے ذریعے شواہد بھی طلب کیے۔
https://zaraye.com/uk-team-reach-pakistan-altaf-hussain/
ذرائع کے مطابق برطانوی پولیس ٹیم نفرت انگیزتقریرکےعینی شاہدین اورگواہان کےانٹرویو 8 اپریل کو ریکارڈ کرے گی، انٹرویوزکی بنیادپرتعین کیاجائے گا کہ بانی ایم کیوایم کی22اگست2016 کی تقریرنفرت انگیز تھی یا نہیں تھی، برطانوی پولیس نےبانی ایم کیو ایم کیخلاف درج ایف آئی آر اور وڈیورکارڈنگ بھی حکومت سے مانگ لی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نفرت انگیز تقریر کی تفتیش کے دوران جو 6 عینی شاہدین گواہ اپنا بیان قلم بند کروائیں گے اُن کا تعلق سندھ پولیس سے ہے اور مختلف مقدمات اُن ہی کی مدعیت میں درج ہیں، یہ بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت اور سابق سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کی بھی برطانوی ٹیم سے ملاقات کروائی جاسکتی ہے۔
