Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
دوست کو نہ نوازنے کا الزام، بول نیوز کے خلاف وزیر اطلاعات کی انتقامی کارروائی کا انکشاف | زرائع نیوز

دوست کو نہ نوازنے کا الزام، بول نیوز کے خلاف وزیر اطلاعات کی انتقامی کارروائی کا انکشاف

اسلام آباد: بول نیوز اور بول انٹرٹینمنٹ چینل کے خلاف وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی انتقامی کاروائیوں پر عدالت نے بڑا حکم جاری کردیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اور پیمرا کو بول کے خلاف کاروائی سے روک دیا، وزیر اطلاعات کی جانب سے بول کے اشتہارات روکنے کے لیے28 فروری پرنسپل انفارمیشن آفیسر کو لکھا گئے خط پر حکمِ امتناعی جاری۔

عدالت نے وفاق اور وزارت اطلاعات کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب طلب کرلیا، میسرز لبیک کی جانب سے سینئیر قانون دان راجہ رضوان عباسی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

لیبک ٹی وی کے لائنسنز پر چلنے والے بول چینل کی جانب سے درخواست میں فواد چوہدری، وزارت اطلاعات، اور وفاق کو فریق بنایا گیا  تھا جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپنےصحافی دوست کےلیے مبینہ بلا جواز مراعات کی سفارش کی، سفارش نہ ماننے پر فواد چودھری بول چینل کے خلاف انتقامی کاروائی پر اتر آئے۔

فواد چوہدری کی ایماء پر وزارت اطلاعات نے بول کو اشتہارات روک دیے، وزیر اطلاعات کی ہدایت پر پرنسپل انفارمیشن آفیسر کو بول کےسرکاری اشتہارات روکنے کا حکم جاری کیا گیا، وزیر اطلاعات کی ہدایت پر پمرا کو بول کے خلاف کاروائی کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ایک سابق ملازم کی جھوٹی درخواست پر وفاقی وزیر اور پمرا کو کسی چینل کے خلاف ایسی کاروائی کا حق حاصل نہیں، عدالت وزیر اطلاعات فواد احمد چودھری کے اقدامات کو غیر قانونی قرار دے اور اُن کے 28 فروری کے خط کو بھی غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے۔