Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اٹھارویں ترمیم کا محاذ، سندھ میں ممکنہ تبدیلی، کراچی کی تمام جماعتیں ایک پیج پر | زرائع نیوز

اٹھارویں ترمیم کا محاذ، سندھ میں ممکنہ تبدیلی، کراچی کی تمام جماعتیں ایک پیج پر

کراچی: سندھ حکومت کی جانب سے اٹھارویں ترمیم کے معاملے پر ان ہاؤس تبدیلی کے امکانات روشن ہوگئے، جس کے ممکنہ اشارے بھی ملے ہیں۔

ایم کیو ایم رہنما فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ حکومتوں کوجانچاجانچاہیےکہ ان کےپاس کتنے اختیار ہیں اور حکومتوں کی نیت کیسی ہے؟ سندھ میں مقامی حکومتوں کو لوکل گورنمنٹ بنادیاگیا، 90فیصدمسائل مقامی ہوتے ہیں، کچرا،پینےکےپانی اورسڑکوں کےمسائل ہوتےہیں،صوبےکواختیارات ملیں اور اس پر حکومت ناگ بن کربیٹھ جیساایسانہیں ہوناچاہیے۔

اُن کا کہنا تھا کہ 11سال سےپیپلزپارٹی فنڈز فراہم نہیں کررہی،کراچی کو 6 ڈسٹرکٹس میں تقسیم کردیاگیاہے،صوبائی،وفاقی اورمقامی حکومت جوکوشش کررہی ہیں اس پرشہرنہیں چل سکتا، کراچی کی آدھی سڑکیں پانی کے رساؤ سےٹوٹی ہوئی ہیں،جب مصطفیٰ کمال ناظم تھےتب43 ارب کابجٹ تھا مگر اب ایسانہیں، اسی طرح نعمت اللہ خان کے دور میں بھی وسائل موجود تھے۔

فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ پہلےاختیارات تھےاب تو یہ بھی نہیں دیےجارہے، واٹراینڈسیوریج بورڈکانظام بھی میئرکےپاس نہیں، پیپلزپارٹی کی نااہلی،بدعنوانی ہے،جان بوجھ کرشہرتباہ کیاجارہاہے،کےایم سی کاترقیاتی بجٹ سڑکوں پرلگتانظرآناچاہیے،پیپلزپارٹی کوبرالگتاہےسندھ میں دوسرا انتظامی یونٹ نہ بنے۔

فردوس شمیم نقوی ، تحریک انصاف

تحریک انصاف کے رکن اسمبلی اور اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقویٰ کا کہنا تھا کہ شہرکی آبادی اور اس کا تخمینہ بھی صحیح نہیں ہوا، آبادی کےتناسب سےچلانےکافنڈز بھی فراہم نہیں کیاجاتا،مقررٹیکس سندھ حکومت جمع نہیں کرپاتی یہ ان کی نااہلی ہے، چین کی کمپنیوں کو سالڈویسٹ مینجمنٹ کا ٹھیکہ دےدیاگیا،کراچی کے3اضلاع کےسواکہیں کام نہیں ہوتا،ان کمپنیوں کوکیوں رکھا۔

اُں کا کہنا تھا کہ سالڈویسٹ مینجمنٹ کامعاہدہ پڑھیں تووہ ایک مذاق ہے،ڈالربیس کنٹریکٹ کیاگیا،اس میں کتنی رشوت کھائی گئی؟ این ایف سی ایوارڈمیں صوبوں کوفنڈزدیےجاتےہیں، کراچی پاکستان کی معیشت کی ریڈھ کی ہڈی ہے،زیادہ ریونیوکی وجہ سےوفاق کراچی کودیگرشہروں سےہٹ کرچلاتاہے،گرین لائن سمیت دیگرمنصوبےوقت پرمکمل نہیں ہوتے،فنانس منسٹروزیراعلیٰ ہیں،ٹیکس کی مد میں 35بلین زیادہ نہ ملےہوں توجوچورکی سزا ہو وہ مجھے دے دیے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ لیاری والوں نے پیپلزپارٹی کو مستردکردیا، نظام درست کرناہےتوملکی اداروں کو درست کیاجائے، واٹربورڈفیڈرل گورنمنٹ چلاتی ہےیاسندھ گورنمنٹ؟واٹربورڈکی بہتری کیلئےسندھ حکومت ہمیں موقع دے،ایک انسٹیٹیوشن نہیں بناسکےجومصطفیٰ کمال کی کمزوری رہی، وسیم اخترکےایم سی کےاندرایک بائیومیٹرک سسٹم نہیں لگاسکے، کےایم سی میں گھوسٹ ملازمین کی تعدادبہت زیادہ ہے۔

حافظ نعیم الرحمان

جماعت اسلامی کے رہنما حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ کراچی میں سب سےبڑامسئلہ اونرشپ کاہے، بڑی جماعتیں کراچی کےمسائل کوصحیح سےنہیں حل کرتیں، جماعت اسلامی کراچی کےمسائل کوحل کرناجانتی ہے،کراچی کےبڑےمسائل حل کرنےکاجماعت اسلامی تجربہ رکھتی ہے، وزیراعظم عمران خان نے162ارب روپےپیکج کےاعلان کی بات کی جس پر غور کیا جانا چاہیے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ایک سسٹم نہیں،دوسراکرپشن ہےاورتیسرانااہلی کاشاہکارہے، عارف نقوی کو کسی اور کیس میں گرفتارکیاگیا، عارف نقوی کوکرپشن پر گرفتارکیاجاناچاہیےتھا،شیخ رشیدالٹےسیدھےبیانات دیتےرہتےہیں،لیاری ایکسپریس وےنعمت اللہ خان نےبنوایاتھا، نعمت اللہ خان نےمنصوبےمیں آنیوالی رکاوٹوں کودورکرایاتھا،جس نےجوکچھ بھی کیاہےوہ قوم کےسامنےہے،اختیارات کاصحیح استعمال ہوتاتوکراچی کہاں سےکہاں پہنچ چکاہوتا۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ مسائل بتائےجائیں توپیپلزپارٹی سندھی،ایم کیوایم مہاجربن جاتی ہے، 13ارب روپےکاترقیاتی بجٹ اب بھی وسیم اخترکےپاس ہے، کام نہیں ہوتاتواختیارات رکھنےوالےپرعوام کودباؤڈالناچاہیے، کراچی کو اس کا حق ملنا چاہیے۔

پی ایس پی مصطفیٰ کمال

پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ اور چیئرمین مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ کراچی کو دودھ دینےوالی گائے اور اےٹی ایم سمجھ رکھاہے، سمجھتاتھاکہ وزیراعظم آئے ہیں تو سندھ کےمسائل حل کرائیں گے اور بلدیاتی اداروں کو اُن کے قانونی اختیارات بھی دلائیں گے مگر ایسا نہ ہوسکا،  سندھ کےلوگ بہت ہی بدترین حالت میں ہیں، حیدرآبادمیں11بارمنتخب ہونیوالےکہتےہیں ان کےپاس گٹرلائن کااختیارنہیں ہیں۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ یہ عجیب جمہوری ملک ہے،پانی اور سیوریج کانظام بھی وزیراعلیٰ نےاپنےپاس رکھاہے،کس ملک میں پانی،سیوریج کانظام وزیراعلیٰ رکھتاہے، 70ارب روپےبجٹ خرچ ہوچکاہے،شہرمیں کہاں خرچ ہوا؟میں سمجھتاہوں اقتدار میں موجود لوگ صرف لوٹ مار کررہے ہیں۔

فاروق ستار

ایم کیو ایم کے سابق رہنما فاروق ستار کا کہنا تھا کہ 2008کےبعدکراچی کوایک قطرہ پانی نہیں ملا، اب تک سرکلرریلوےمنصوبےکی بحالی نہیں ہوسکی جبکہ صوبے اور وفاق کو کراچی 80 سے 90 فیصد ریونیو دیتا ہے۔

نبیل گبول

پیپلزپارٹی کے رہنما نبیل گبول کا کہنا تھا کہ لیاری سےایم پی اےمنتخب ہواتوبےشمارترقیاتی کام کرائے، بختاورپارک،ذوالفقارعلی بھٹولا کالج،یونیورسٹی ،کالج کےکام کرائے، میڈیکل کالج لیاری سےہرسال سیکڑوں بچےڈاکٹربن کرنکلتےہیں، بلدیاتی الیکشن میں پی ٹی آئی لیاری سےایک سیٹ نہ جیت سکی، 14سیٹوں پرپی ٹی آئی کی کامیابی کیسےہوئی سب جانتے ہیں، فردوس شمیم،فیصل سبزواری کولیاری کےدورےکی دعوت دیتاہوں۔

اُن کا کہنا تھا کہ لیاری میں سندھ حکومت کےتعاون سے12سڑکیں زیرتعمیرہیں، ایم این اےرہاتووفاق کےپاس بھاگ بھاگ کرجاکرفنڈزلئے، پی ٹی آئی کے14ایم این ایزفنڈزنہ ملنےپررورہےہیں، ایم کیوایم کےمیئرسےمشرف صاحب کوزیادہ محبت رہی تھی۔

شہر قائد پر ہونے والا مباحثہ بے نتیجہ ختم ہوا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق چونکہ سندھ حکومت کے خلاف گھیرا تنگ کرنا تو اس طرح کے مباحثوں کا اہتمام کرایا جائے گا تاکہ حکومتی کارکردگی کا پردہ چاک کیا جاسکے۔