Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
کراچی کی ابتر صورتحال پر میئر کراچی اور وزیر بلدیات کا مباحثہ، ایک دوسرے پر الزام |

کراچی کی ابتر صورتحال پر میئر کراچی اور وزیر بلدیات کا مباحثہ، ایک دوسرے پر الزام

کراچی: پی پی کے رہنما عاجز دھامرا نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم نے ثابت کیاوہ وہ آج بھی بانی کے ایجنڈے پر گامزن ہے،  ایم کیو ایم پھرنفرت کی سیاست کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم کراچی یا حیدرآباد پیکج کے خلاف نہیں، سندھ کو کوئی بھی الگ نہیں کرسکتا، ایم کیوایم اور اردو بولنے والے الگ الگ ہیں۔

وزیربلدیات سعید غنی

وزیر بلدیات سعید غنی کا کہنا تھا کہ کراچی سےمنتخب نمائندےشہرکےحالات بہترسمجھتےہیں،پیپلزپارٹی کی مقامی قیادت بھی کراچی کےمسائل پرکام کررہی ہے، کراچی کے4اضلاع میں چینی کمپنیاں کام کررہی ہیں، ساؤتھ اور ایسٹ میں حالات قدرےبہترہیں مگر ڈسٹرکٹ ویسٹ میں بہت سےمسائل ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ کراچی میں کچراضرور ہےلیکن 3سال پہلےجوصورتحال تھی اب وہ نہیں، اختیارات کاکہاجاتاہے وہ صوبائی حکومت کےپاس ہیں جوغلط ہے، ایم کیوایم کامطالبہ ہے2001والےاختیارات سےزیادہ اختیارات ملنےچاہئیں، ایسانہیں ہوسکتاکہ اختیارات میں اضافہ کیاجائے، میئرکراچی اور ڈی ایم سیزکےنمائندوں سےمعاملات ٹھیک چل رہے ہیں، مالی حالات جیسے ہیں اس میں نئی ڈیمانڈکوپوراکرنامشکل ہے، شہریوں کواحساس کرناچاہیےکہ کچراکہاں پھینکناچاہیےاورکہاں نہیں ہے۔

وسیم اختر

دوسری جانب وسیم اختر کا کہنا تھا کہ کراچی کاشماردنیاکےبڑےشہروں میں ہوتاہے، شہر کے مسائل کو ہمیشہ  سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، کسی بھی حکومت نےکراچی کے مسائل پر توجہ نہیں دی، سندھ حکومت کی ذمہ داری ہےکراچی کےمسائل کوحل کرے، سیاسی طورپرکراچی کو6ڈسٹرکٹ میں تقسیم کردیاگیا، جب اختیارات بٹ جائیں گےتومسائل کیسے حل ہوں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت 10سے11بجٹ پیش کرچکی، میئرکےاختیارات کراچی میں10سے12فیصدسےزائدنہیں، تنخواہوں اور پنشن کےعلاوہ کوئی اختیار نہیں، بڑےاختیارات سندھ حکومت نے اپنے پاس رکھے ہوئےہیں،یونیورسٹی روڈکی تعمیر کےدوران ڈرینج، پانی کےایشوزکوحل نہیں کیاگیا،کراچی میں سیوریج،پینےکےپانی،ٹرانسپورٹ کےنظام تباہ ہیں۔

وسیم اختر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نےکہاکراچی سندھ سمیت پورےملک کو چلاتاہے، سیوریج کانظام واٹربورڈ دیکھتاہےجوسندھ حکومت کے پاس ہے،اختیارات اورفنڈزنچلی سطح تک منتقل نہیں کئےجاتے، 18ویں ترمیم کےبعداختیارات نچلی سطح پرمنتقل کئےجانےچاہئیں، این ایف سی ایوارڈزآج تک فائنل نہیں ہوپارہا، بلدیاتی نظام کومضبوط کیاجائےتوبہتری آئےگی، گزشتہ 10سال سےملنےوالےڈویلپمنٹ کےبجٹ کہاں خرچ ہوئے، سعیدغنی ہوں یاوزیراعلیٰ، یہ سب سسٹم میں بہتری نہیں لاسکتے، اگریہی سلسلہ چلتارہاتوکراچی کے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔

اُن کا کہنا تھا کہ کراچی کےمسائل پرسیاست کی جاسکتی ہے،لوگوں کوبیوقو ف بنایاجاسکتاہے، 6ڈسٹرکٹس ہیں توسب کس طرح سےکام کریں گے، سسٹم کوبہترکرناہوگا،حکومت کوایک ہی محکمےکوتمام اختیارات دیناہوں گے، بلڈنگ کنٹرول،ٹرانسپورٹ کےاختیارات کےایم سی کےپاس نہیں، بلدیات کےمحکمےکومضبوط کرنےکی ضرورت ہے، کراچی میں50فیصدسےزائدکچی آبادی ہے، کراچی کےمسائل حل کرنےہیں توسب کومل بیٹھناہوگا۔