اسلام آباد: متحدہ مجلس عمل کے سربراہ اور جمعیت علماء اسلام ف کے قائد مولانا فضل الرحمان نے فوجی ترجمان کی میڈیا بریفننگ سمیت پی ٹی ایم پر کھل کر تنقید کردی۔
اسلام آباد میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے جن باتوں کو چھیڑا وہ اُن کا کام نہیں، حکومتی معاملات پر فوجی نمائندے کی بات چیت ہمارے شروع سے اپنائے جانے والے مؤقف ’اصل حکومت فوج کی ہے‘ کو تقویت ملی۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اب فیصلے پارلیمنٹ کی جگہ جی ایچ کیو میں ہو رہے ہیں جو کسی کے لیے بھی اچھا نہیں ہے، آئی ایم ایف سے قرض لینے کے لیے مدارس کے خلاف غلط باتیں کی گئیں‘‘۔
متحدہ مجلس عمل کے سربراہ کا کہنا تھا کہ مجھے پی ٹی ایم سے کوئی ہمدردی نہیں کیونکہ اُن کی لڑائی ریاست کے ساتھ ہے اور ہم ریاست کھڑے ہیں البتہ جو غلط کام ہوں گے اُن کے خلاف کھڑے بھی ہوں گے۔
مدارس کو وزارتِ تعلیم کے ماتحت لانے کی کوشش
مولانا کا کہنا تھا کہ حکومت مدارس کو وازرتِ تعلیم کے ماتحت لانے کی کوشش کر رہی ہے، اس حوالے سے علمائے کرام اور مذہبی رہنماؤں کو اعتماد میں نہیں کیا گیا، دینی مدارس کا نصاب تعلیم وہ لوگ لائیں گے جو ابھی تک امریکا کی کتابیں پڑھاتے ہیں۔
https://zaraye.com/asif-ghafoor-important-pressure-ptm/
فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مدارس کی آزادی کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں بلکہ جب برصغیر میں انگیریز موجود تھے وہ بھی مدارس اور طالب علموں کے خلاف قومی ایجنڈا رکھتے تھے، آئی ایم ایف نے مدارس کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی پر قرض دینے کی حامی بھری ہے۔
مجلس عمل کے سربراہ نے فوجی ترجمان کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ کو اپنی روش تبدیل کرنا ہوگی ۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ انتہاپسندی معاشرتی مرض ہے اس کا مدرسوں سے کوئی تعلق نہیں، ستر سال کے جابر کا رویہ اور اپنی غفلت کا قصور وار مدارس کو نہ ٹھہرایا جائے۔
https://zaraye.com/we-allowed-jihad-as-per-situation-ispr/
’ناجائز اور ناپاک فیصلہ کی تکمیل کےلئے دباؤ نہ ڈالا جائے ۔ حکومت کے ساتھ مزید کوئی مذاکرات کےلئے تیار نہیں ہیں‘۔
