Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
30 ہزار میں‌ سے صرف 100 مدارس عسکریت پسندی کی تعلیم دیتے ہیں، DG ISPR

30 ہزار میں‌ سے صرف 100 مدارس عسکریت پسندی کی تعلیم دیتے ہیں، DG ISPR

راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ اور ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستان میں اس وقت مدارس کی تعداد 30 ہزار سے زائد ہے جب میں 25 لاکھ طلبہ یر تعلیم ہیں، تمام مدارس اور طالب علموں کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق میجر جنرل آصف غفور نے گزشتہ روز اہم پریس کانفرنس کی جس کو چار حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، پہلے حصے میں بھارتی پروپیگنڈے، دوسرے میں بنگلا دیش بننے کی وجہ، تیسرے میں پی ٹی ایم کو وارننگ اور چوتھے میں مدارس کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔

میجر جنرل آصف غفور نے مسنگ پرسنز کے حوالے سے بھی جو مؤقف اپنایا اُس پر انہیں سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’ہمارا دل نہیں چاہتا کوئی شخص لاپتہ ہو مگر جنگ اور محبت میں ہر چیز جائز ہے‘‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’’ دہشت گردی کو ختم کر کے انتہاء پسندی کے خاتمے کی طرف بڑھیں گے، جس کے تحت ملک کے تمام مدارس کو وفاقی اور صوبائی وزارتِ تعلیم کے ماتحت کیا جائے گا اور تمام ہی طالب علموں کو قومی دھارے میں لایا جائے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’’ پاکستان میں اس وقت مدراس کی تعداد 30 ہزار سے زائد ہے جن میں 25 لاکھ طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں جنھیں قومی دھارے میں شامل کیا جائے گا، سنہ 1947 میں تعداد صرف 247 تھی، 1980 میں 2061 اور پھر یک دم افغان جنگ اور ایران انقلاب کے بعد مدارس کھلنا شروع ہوئے‘‘۔

https://zaraye.com/we-allowed-jihad-as-per-situation-ispr/

’’پاکستان میں مدارس کھول کر جہاد شروع کیا گیا، ملک میں موجود 30 ہزار میں سے صرف 100 مدارس ایسے ہیں جو انتہاء پسندی اور شدت پسندی کی تعلیم دیتے ہیں، بقیہ عسکریت پسندی یا دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہیں،پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں جو دنیا میں دوسری بڑی تعداد ہے، دنیا میں تعلیم کی ترقی کے انڈیکس میں ہمارا نمبر 129 میں سے 113 ہے جو بہت شرمناک بات ہے۔‘‘

میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ ’’مدارس کئی سال تک وزارتِ صنعت کی زیر نگرانی رہے مگر اب انہیں وزارتِ تعلیم کے انڈر میں کیا جارہا ہے، وزیراعظم نے اس ضمن میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی جو علمائے کرام کے ساتھ مذاکرات کرے گی اور ایسا نصاب تشکیل دے گی جس میں نفرت انگیز مواد شامل نہ ہو اور مدرسے سے فارغ ہونے والے بچے ایک دوسرے کے فرقے کا احترام بھی کریں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا کہ تمام علما مدارس کو قومی دھارے میں لانے پر متفق ہیں، وزارتِ تعلیم مدارس کے نصاب میں عصر حاضر کا کورس شامل کرے گی اور فارغ ہونے والے بچوں کو اسناد بھی دی جائیں گی‘‘۔

’’مدارس کو قومی دھارے میں لانے کے لئے قانون سازی ضروری ہے، اس مقصد کے لئے ڈیڑھ ماہ میں ایک بل تیار ہو جائے گا، دوسرے مرحلے میں مدارس کے مالیاتی امور، نصاب کا جائزہ اور اساتذہ کا تقرر کیا جائے گا۔ تیسرے مرحلے میں مدارس کو مجموعی طور پر قومی دھارے میں لایا جائے گا۔‘

فوجی ترجمان نے کہا کہ 70 فیصد مدارس میں ایک طالب علم پر ایک ہزار روپے ماہانہ خرچ کیے جاتے ہیں، 25 فیصد مدارس ایک طالب علم پر تین سے پانچ ہزار روپے جبکہ پانچ فیصد مدارس میں ایک طالب علم پر 15 سے 20 ہزار روپے ماہانہ خرچ ہوتے ہیں، پاکستانی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ میں امریکی اور دیگرغیر ملکی بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مدرسے کے ایک طالب علم نے پاک فوج میں کمیشن بھی حاصل کیا ہے، مدارس سے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے ملازمتوں کے مواقع بہت کم ہوتے ہیں۔ ’یہ طلبہ بھی ڈاکٹرز، انجینئرز، وکلا،جج، صحافی اور فوجی بن سکتے ہیں اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ان طلبہ کو درس نظامی کے ساتھ عصر حاضر کی تعلیم دی جائے۔‘

https://zaraye.com/asif-ghafoor-important-pressure-ptm/

پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے ابتدائی طور پر دو ارب روپے اور اس کے بعد ہر سال ایک ارب روپے درکار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رقم ریاست فراہم کرے گی۔

خیال رہے کہ پاکستان میں سنہ 2014 میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت مدارس کو قومی دھارے میں لانے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اس سلسلے میں وزارت داخلہ نے مدارس کی تمام تنظیموں سے مذاکرات شروع کئے تھے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حکومت نے کالعدم تنظیموں کے خلاف مہم کے تحت 182 مدارس کو قومی تحویل میں لیا جبکہ 100 سے زائد افراد کو نظر بند کیا گیا۔