کراچی، بوند بوند کو ترسو اور پیاسے مرو ۔۔۔۔ تحریر کامران رضوی

عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے اس میں ظاہر ہے کے کوئی پہلی یا دوسری راۓ نہیں بات اللہ کی ہے مگر ہمارے ملک کی ایک مسلکی جماعت نے ”کراچی کو عزت دو“ کا نعرہ لگایا ہے یا اللہ جانے کوئی دعا مانگی ہے اور اسی نعرے کی بنیاد پر وہ مسلکی جماعت ایک دن اور برباد کرنے پر تُلی ہے انکی مرضی ہے اب ہمارے ملک میں اور بالخصوص کراچی میں آئین اور قانون بچا کہاں ہے؟ جو کسی سے انسانیت کے ناطے یہ پوچھ لے کہ بھائی اس شہر کراچی کے لوگوں پر پانی کیوں بند ہے؟

تاریخ گواہ ہے کے پہلے وقتوں میں حکومت اپنے مخالف کا پانی بند کردیا کرتی تھی کربلا کا واقعہ تو سب کے سامنے کا ہے ہم ابھی پچھلے دنوں ڈیموں کے بنانے پر بضد تھے، سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے تو چندہ جمع بھی کیا ڈیم کے نام پر لیکن اب ہم وہ بھی بھول گیے، اس ڈیم مہم سے پہلے ہم انڈیا کے شدید اور بدترین مخالف بن چکے تھے کے انڈیا نے ہمارا پانی روک دیا ہے اپنے واٹس ایپ پر دھڑا دھڑ ویڈیو آتی تھیں لیکن بھول جانے کا عمل بھی تو بہت ہے ہم پاکستانیوں میں وہ بھی بھول گئے۔

اب یہ کراچی کو عزت دو بھی ایک کھیل ایک تماشہ ہے چند گھنٹے کا پھر بھول نا تو اب ایک عمل ہے جس سے ہم گزر جائیں گے، دنیا میں شہروں کی ترقی دیکھ کر انگلیاں دانتوں تلے دبا لی جاتی ہیں مگر کراچی کا اجڑنا پورا ملک دیکھ رہا ہے یہاں کا ووٹ یا شہری سندھ کا ووٹ ایم کیو ایم کا ہے تو سزا تو ملے گی، روٹی کپڑا اور مکان یا ووٹ کو عزت دو یا اب کراچی کو عزت دو ان کھوکھلے نعروں سے شہری سندھ بیزار ہو چکا ہے۔

سندھ حکومت ہو یا مرکزی حکومت وہ اس شہر کو اپنا نہیں سمجھتی ایک بہت ہی معمولی سی بات جسکا تذکرہ کرنا بھی عجیب سا محسوس ہورہا ہے لیکن اپ کو بتانا تو ضروری ہے کے پاکستان میں ڈیم بنے یا نہ بنے انڈیا پانی بند کرے یا نہ کرے لیکن سندھ حکومت نے کراچی کا پانی بند کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے ۔

26 کروڑ گیلن یومیہ پانی کا ایک منصوبہ جسے ہم اپ کے فور کے نام سے جانتے ہیں یہ منصوبہ 2007 میں واٹر بورڈ نے شروع کیا ایم کیو ایم اس منصوبہ کو لیکر اگے بڑھی کراچی میں پانی کا مسئلہ ایم کیو ایم کی نظروں میں تھا 120 کنال اور پائپ لائن کا یہ منصوبہ جو شروع تو بہت اچھے انداز سے ہو مگر اس منصوبے پر کب سندھ حکومت قابض ہوگئی کب واٹر بورڈ کراچی سے سوتیلا بن کر سندھ حکومت کا سگا بن گیا۔

ہمیں ابتدا میں اسکا اندزہ محسوس نہیں ہوا لیکن وقت گزرتا ہے تو بہت کچھ صاف نظر اتار ہے 2007 سے ہم 2019 میں ہیں 12 برس میں کے فور کا منصوبہ روپے سے ہزاروں لاکھوں کروڑوں اور پھر ارب تک پہنچ رہا ہے لیکن مسئلہ کراچی کا شروع ایم کیو ایم نے کیا تو سندھ حکومت ہر سال بجٹ دیتی ہے اور پھر خود ہی جعلی اکثریت کی بنیاد پر بجٹ پاس بھی کروا لیتی ہے لیکن نہ تو بوند بھر پانی ملا نہ کے فور منصوبہ سندھ حکومت کا وہ ادارہ جو کراچی کا ادارہ تھا واٹر بورڈ اسکی ذمہ داری تھی کہ زمین اور بجلی کا بندوبست کرتی لیکن دستاویزات کے مطابق 2015 سے 2018 تک واٹربورڈ نے 3سال ضایع کر دیے۔

کراچی میں‌ پانی کی قلت، ایم کیو ایم نے بڑا فیصلہ کرلیا

آج تک نہ زمین کا حصول ممکن ہو پا یا نہ ہی بجلی کا نظام بن سکا کے فور منصوبے میں 80 فیصد زمین سرکاری جبکہ بقیہ ملیر کے شہریوں کی ہے، مرکز نے 5 ارب روپے کے فور منصوبے کی تکمیل اور زمین کے حصول کے لیے رقم بھی دی مگر شاباش ہے سندھ حکومت اور ان کا ایک لاڈلہ واٹر بورڈ اب 5 ارب کا کون حساب کرے۔

کر اچی کو اس وقت  60کر وڑ گیلن یومیہ پا نی کی کمی کاسامنا ہے اور کے فور منصوبہ انتہا ئی اہمیت کا حامل ہے لیکن سند ھ حکومت اور واٹر بورڈ اس منصوبے پر غیر سنجیدگی کا مظاہر ہ کررہے ہیں ۔اب مسئلہ یہاں جینے اور مرنے کا ہے پانی قدرت کی دئیین ہے انسانی جسم یا انسان پانی کے بغیر ذندہ رہ نہیں سکتا یہ قصہ کے فور اگے بڑھتا ہے تب بجٹ 2018 کی تقریر میں وزیر اعلیٰ سندھ فرماتے ہیں۔

کینجھر جھیل سے کراچی کو یومیہ26کروڑ گیلن اضافی پانی فراہم کرنے والے کے فور کے پہلے مرحلے کی تعمیر سے جو پانی کراچی شہر کے باہر پہنچے گا اسے واٹر سپلائی اسکیم سے منسلک کرنے کا منصوبے پر کل لاگت کا تخمینہ 18 ارب 61 کروڑ 60لاکھ 80ہزار روپے لگایا گیا ہے۔

یہ منصوبہ آئندہ3برس میں30جون 2021 تک مکمل ہو گا۔ رواں مالی سال کے دوران اس منصوبے کیلئے5 ارب مختص کرنے کا تخمینہ لگایا گیا۔ یکم جولائی 2019 کو شروع ہونے والے مالی سال کے دوران اس پر 6ارب 80کروڑ 80لاکھ اس کے بعد 7ارب 48کروڑ 51لاکھ 55ہزار لگائے جائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کینجھر جھیل سے کراچی تک کے فور منصوبے کیلئے جو کینال تعمیر کی جا رہی ہے اس کے ذریعے پانی شہر سے باہر سپر ہائی وے کی متعلقہ سائٹ تک پہنچے گا اور اسے پائپ لائنوں کے ذریعے واٹر سسٹم میں شامل کرنے کیلئے پمپنگ اسٹیشنز بھی تعمیر ہوں گے۔

قلت آب، کراچی میں‌ بڑے تصادم کا خطرہ

کے فور کے پہلے مرحلے کا پانی بھی کراچی کے شہریوں کو 2021 سے پہلے نہیں مل سکے گا میرا مشاہدہ ہے جو اللہ کرے غلط ہو یہ 2021 میں اگر یہ سندھ حکومت رہی تو ناممکن ہے کے کے فور منصوبہ مکمل ہو سکے پھر 26 کروڑ گیلن یومیہ اب کراچی کی ضرورت نہیں کراچی کو اب 60 کروڑ گیلن یومیہ پانی چاہیے یا اسکی ضرورت ہے سندھ حکومت مستقل تاخیری حربہ استعمال کر رہی ہے بات اب 30 ارب تک پہنچ چکی ہے لیکن نفرت ابھی مکمل نہیں ہوئی بھوکے مرو پیاسے مرو کسی بھی طرح ۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: