مسلم لیگ ن کے سربراہ اور اپوزیشن لیڈر برائے قومی اسمبلی شہباز شریف نے لندن میں قیام طویل کرتے ہوئے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ چھوڑ دی۔
شہباز شریف نے اچانک پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ چھوڑنے کا رضاکارانہ طور پر فیصلہ کیا اور بتایا کہ وہ لندن میں غیر معینہ مدت تک قیام کریں گے۔
شہبازشریف کے بعد مسلم لیگ ن کی پارلیمانی کمیٹی نے رانا تنویر کو چیئرمین شپ دینے کی منظوری دے دی۔ رانا تنویر جو پارلیمانی لیڈر کی حیثیت سے امور انجام دے رہے تھے اب اُن کی جگہ یہی کام خواجہ آصف کریں گے۔
یاد رہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے دورمیان طویل عرصے تک پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ کے حوالے سے تنازع رہا جس کے بعد حکومت نے شہباز شریف کو تعینات کرنے کی منظوری دی تھی۔
تجزیہ نگاروں اور سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ شہبازشریف کا بیرونِ ملک جانا، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ چھوڑنا، غیرمعینہ مدت تک لندن میں رہنے کا اعلان اور نوازشریف کی باہر جانے کی خواہش ان باتوں کی طرف اشارہ ہیں کہ این آر او ہو نہیں رہا بلکہ ہوچکا ۔۔۔اور اس پر عملدرآمد جاری ہے۔
