پنجاب سے یہ اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ مقتدر حلقے پنجاب میں ایک نئی سیاسی جماعت متعارف کرانے جارہے ہیں جسے ملک کی دوسری بڑی جماعت کے طور پر پیش کیا جائے گا۔
اس جماعت میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سمیت، تحریک لبیک پاکستان، جماعت الدعوۃ سمیت دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنما شریک ہوں گے، ’’پنجاب نیشنلسٹ موؤمنٹ‘‘ کی تشکیل اور رہنماؤں کی شمولیت کے حوالے سے کام مکمل ہوگیا جبکہ آئندہ چند دنوں میں اس کے قیام کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔
پنجاب نیشنلسٹ موومنٹ پہلے مرحلے میں صوبے میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے گی اور بھرپور کامیابی حاصل کرسکتی ہے جبکہ اگلے مرحلے میں مسلم لیگ ق وغیرہ کے اراکین بھی اس میں شامل ہوں گے۔
دوسری جانب یہ بھی اطلاع سامنے آئی کہ مسلم لیگ ن کے 80 صوبائی اور 25 قومی اسمبلی کے اراکین شریف خاندان سے بغاوت کے لیے تیار ہیں، پنجاب اسمبلی میں 166 ارکان اسمبلی میں سے 80 جبکہ قومی اسمبلی کے 84 میں سے فی الحال 25 ارکان نے بغاوت کا عندیہ دے دیا جبکہ ذرائع کو یہ بھی اطلاع ملی کہ اتوار کے روز ظہرانے کا اہتمام کیا گیا جس میں لیگی اراکین کو مدعو کیا جائے گا اور اوپر سے آنے والے فون کی وجہ سے وہ جانے پر بھی رضا مند ہیں۔
باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مسلم لیگ ن میں فارورڈ بلاک چکا، جس کی قیادت اپر پنجاب سے تعلقات رکھنے والے انتہائی معتبر قومی و صوبائی اسمبلی کے پانچ ارکان کررہے ہیں، پنجاب اسمبلی میں فی الحال 89 ارکان اسمبلی ڈیفنس وآئی بلاک میں ایک ممبر قومی اسمبلی کے گھر پر دو مرتبہ میٹنگ کر چکے ہیں۔ خواجہ برادران بغاوت کرنے والے اراکین میں شامل ہیں اور وہ شریف خاندان سے بھی شدید نالاں ہیں کیونکہ سزا کے بعد سے انہیں پوچھا نہیں گیا۔
ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پانچ مئی بروز اتوار ڈیفنس وآئی بلاک میں ایک رکن قومی اسمبلی کے گھر ظہرانے کا اہتمام کیا گیا ہے جہاں پر مطلوبہ تعداد پوری ہونے کی بڑی امید ہے۔عید کے بعد فارورڈ بلاک کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے گا اور وہ عمران خان کی حکومت سے مذاکرات کرکے قومی و پنجاب اسمبلی میں اپنے حصے کی وزارتیں بھی لے سکتے ہیں۔
