حکومت پاکستان کی جانب سے تعینات کیے جانے والے ایف بی آر چیئرمین شبر زیدی کا نام ای سی ایل میں شامل تھا مگر گزشتہ برس یک دم کابینہ کے میں لائے بغیر اُن کا نام ایگزیٹ کنڑول لسٹ سے نکلانے کی ہدایت کردی تھی۔ چونکہ عمران خان کے پاس داخلہ کی وزارت بھی ہے تو انہوں نے اے ایف فرگوسن فرم کے اہم پارٹنر کا نام نکال دیا تھا۔
شبر زیدی کا نام ای سی ایل میں کے اے ایس بی بینک کو اسلامی بینک کے ساتھ ضم کرنے کے اسکینڈل میں شامل کیا گیا تھا، نیب نے الزام عائد کیا تھا کہ شبر زیدی بھی ان افراد میں شامل تھے جنہوں نے ان دو بنکوں کے انضمام کے دوران غیر شفاف طریقے سے ڈیل کی ۔ نیب کے مطابق بینکوں کے اس غیر شفاف انضام کے ذریعے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کے علاوہ کسب بنک کے سپانسرز کو بھی خسارے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
قومی احتساب بیورو نے گذشتہ سال کے اختتام پر اسٹیٹ بنک کے سابق گورنر اشرف وتھرا، بنک اسلامی کے صدر حسن عزیز بلگرامی، اے ایف فرگوسن کے شبر زیدی، حسن ناظر اور عاصم سلیم کے نام ای سی ایل پر ڈالنے کی سفارش کی تھی۔ 2دسمبر کو کابینہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی تھی کہ شبر زیدی کا نام فوری طور پر ای سی ایل سے نکالا جائے ۔ کابینہ کے اس اجلاس کے ایجنڈے پر یہ آئٹم شامل نہیں تھا اور اس کو دیگر آئٹمز میں سے سامنے لا کر یہ ہدایات جاری کی گئیں۔
خیال رہے کہ شبر زیدی کی فرم اے ایف فرگوسن نے عمران خان کو ان کے خلاف سپریم کورٹ میں نااہلی کے مقدمے میں خدمات فراہم کی تھیں ۔ اس مقدمے میں عدالت عظمی نے عمران خان کی نااہلی کے لیے دائر کی گئی مسلم لیگی رہنما حنیف عباسی کی درخواست مسترد کر دی تھی ۔
شبر زیدی کی فرم نے تحریک انصاف کے ایک اورسینئر رہنما کو بھی ایڈوائز دی تھی ۔
پانچ ملزمان میں سے صرف شبر زیدی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی ہدایت جاری کرنے کے بعد مفادات کے ٹکراؤکے سوالات اٹھائے گئے تھے ۔
اس وقت وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا تھا کہ یہ تاثر درست نہیں کیونکہ شبر زیدی کی فرم آصف زرداری اور نواز شریف کو بھی خدمات فراہم کر چکی ہے اور ان کا نام کسی کی غلطی سے ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا۔
