“ان کے سروں پر گولیاں مارو”

ہائی روف ، کار اور موٹرسائیکلوں پر سوار مسلح افراد بڑے ہتھیاروں کے ساتھ بستی میں داخل ہوکر لوٹ مار کرتے ہیں اور با آسانی فرار ہوجاتے ہیں، یہ محض اتفاق ہے یا پھر سازش کہ جب سے کراچی میں اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اے این پی کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ملی تب سے اورنگی کے کچھ علاقوں میں چوریوں ڈکیتوں کی وارداتوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا۔

ایک ماہ سے زائد اورنگی ٹاؤن کے مختلف علاقوں نمبر 10، 11 میں مسلح افراد کسی بھی گھر میں داخل ہوکر لوٹ مار کر کے واپس چلے جاتے ہیں، ان باتوں سے پریشان علاقہ مکینوں نے جب تھانہ اقبال مارکیٹ کے ایس ایچ او سے رابطہ کیا تو کوئی مؤثر جواب نہ ملا۔

علاقہ مکینوں کا مؤقف ہے کہ جب سے ایس ایچ او اقبال مارکیٹ قمر زیب کو تعینات کیا گیا تب سے وارداتوں میں اضافہ ہوا، گزشتہ اتوار مسلح افراد کے ہاتھوں لوٹنے والے متاثرین نے تھانے کے باہر پرامن احتجاج کیا تو آئی جی سندھ نے نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او کو معطل کیا تاہم صرف دو گھنٹے بعد انہیں کلین چٹ ملی اور وہ عہدے پر پھر سے بحال کردیے گئے۔

تھانے کے باہر احتجاج کے بعد حالات مزید سنگین ہوگئے اور ایک ہفتے میں دو گھرانوں کو باپ بیٹوں سے محروم جبکہ تین لڑکوں کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا، معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مکینوں نے اعلیٰ حکام تک بات پہنچانی چاہیے مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی تو اپنی مدد آپ کے تحت پرانی طرز کا چوکیداری سسٹم قائم کیا۔

چوکیداری سسٹم نفاذ کے بعد نوجوان ہاتھوں میں ڈنڈے لیے رات کو گلیوں میں پہرے دینے لگے تاہم اس دوران اگر مسلح افراد داخل ہوئے تو انہوں نے شدید فائرنگ کی تو چوکیداری پر تعینات نوجوانوں کو مجبوراً وہاں سے بھاگنا پڑا اور مسلح افراد اطمینان کے ساتھ اپنی کارروائی کر کے چلے گئے۔

علاقہ مکینوں نے انکشاف کیا کہ بغیر نمبر پلیٹ کی گاڑیوں میں موجود مسلح افراد اور موٹرسائیکل سوار پٹھان ہیں اور وہ گھر میں داخل ہونے کے بعدنہ صرف بدتمیزی کرتے ہیں بلکہ اہل خانہ کو تشدد کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔

گزشتہ روز اہل علاقہ نے اسلام چوک کے باہر احتجاج کیا تو پولیس نے اپنےروایتی طرز کو اپناتے ہوئے مظاہرین سے مذاکرات کا آغاز کیا تاہم اس دوران ایک اہلکار نے تلخ کلامی کے بعد ایک شخص پر لاتوں مکوں کی بارش کردی جس کے بعد حالات کشیدہ ہوئے۔

مظاہرین پولیس سے مدد طلب کرنے آئے تھے مگر اُن پر سیدھی گنیں تان کر فائرنگ کی گئی اور ستم ظریفی یہ کہ کوچنگ سے باہر نکلنے والے بچوں کو گرفتار کر کے انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے، بات یہی ختم نہیں ہوئی بلکہ ایس ایس پی ویسٹ ناصر آفتاب کے ہمراہ آئے سادہ لباس اہلکاروں نے فائرنگ کی اور سر پر گولیاں مارنے کے احکامات دیے۔

اورنگی ٹاؤن کے مکین جو پہلے بجلی کے اضافی بلوں، شناختی کارڈ نہ بننے سے پریشان تھے اور اُن کی کہیں شنوائی نہیں تھی اب وہ مسلح افراد کے نشانے پر ہیں، اس کے باوجود ایس ایس پی ویسٹ ناصر آفتاب کو یہ مظاہرہ سازش معلوم ہوا اور انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان مظاہروں کے پیچھے کچھ چہرے چھپے ہیں جنہیں جلد عوام کے سامنے لایا جائے گا۔

اُن کے انداز بیان اور ایک سوال کے جواب سے واضح ہوا کہ وہ جن لوگوں کی طرف اشارہ کررہے تھے وہ ایم کیو ایم لندن ہے،  کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ مسلح افراد کے خلاف بولنے سے پختون مہاجر فسادات کو ہوا دی جائے گی اس لیے انہوں نے اورنگی کی عوام کو متنبہ کیا کہ وہ کسی کے بہکاوے میں نہ آئے اور معمولی سی وارداتوں پر اتنا بڑا ہنگامہ کھڑا نہ کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، گویا تھانے کو اطلاع دینا یا جرائم پیشہ افراد کے خلاف بولنا قانون شکنی ہے اور پولیس افسران کے جھوٹی تسلیوں پر یقین رکھنا قانون کی پاسداری ہے۔

سانحہ پکا قلعہ، سانحہ قصبہ علیگڑھ، سانحہ کٹی پہاڑی صرف سنا تھا تاہم اب مورخ کل کے سانحے کو بھی اس عنوان کے ساتھ لکھے گا کہ ان کے سروں میں گولیاں مارو، خواتین کو بالوں سے پکڑو اور انہیں بٹ مارو تاکہ یہ اپنے بچوں کو آئندہ کسی مظاہرے میں نہ بھیجیں، باقی رہی جرائم کی بات تو حضور وہ تو ہم نے کراچی میں 90 فیصد امن قائم کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں:

اپنا تبصرہ بھیجیں