آج وزیر اعظم صاحب نے مجھے ان 21 کروڑ چند لاکھ پاکستانیوں میں شمار کیا جو ٹیکس نہیں دیتے بقول وزیر اعظم صاحب کے صرف 1 فیصد پاکستانی ٹیکس ادا کرتے ہیں میرے کچھ نا سمجھ بھائیوں نے وزیر اعظم صاحب کی مجبوری کو سمجھا کے جب ٹیکس اکٹھا نہیں ہوگا تو حکومت کے پاس پیسا کہاں سے آے گا ؟
۔میں بجلی کا بل ادا کرنے لگا تو دیکھا کہ بجلی کے بل پے ٹیکس
میں پیٹرول ڈلوانے گیا تو پتا چلا کے پیٹرول کی اصل قیمت تو یہ ہے لیکن ٹیکس ملا کے اتنے روپے فی لیٹر دینا ہوگا
دوا لینے گیا تو اس پے بھی ٹیکس
سفر کیا تو ٹول ٹیکس
صابن پے ٹیکس
شمپو پے ٹیکس
ٹیلی فون، گیس پے ٹیکس
موبائل و موبائل کارڈ پے ٹیکس
گھر میں ٹی وی ہو یا نا ہو پھر بھی ٹیکس
دوکانو ں پے ٹیکس
گھروں پے ٹیکس
زمینوں پے ٹیکس
سائیکل پے ٹیکس
موٹر سائیکل پے ٹیکس
گاڑی پے ٹیکس
بلب پے ٹیکس
پنکھے پے ٹیکس
اے سی پے ٹیکس
میری تنخواہ پے ٹیکس
الغرض میری ضرورت کی ہر چیز پے مجھ سے ٹیکس لیا جاتا ہے یہاں تک کہ اگر میں ایک ٹافی بھی لیتا ہوں تو اس پے بھی ٹیکس ہے لیکن پھر بھی وزیر اعظم صاھب مجھے سے کہ رہے ہیں کہ تم ٹیکس نہیں دیتے۔ آج تک مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ اتنے سارے ٹیکس کے بدلے مجھے جناب وزیر اعظم صاحب دے کیا رہے ہیں۔
اور ایک اور الزام بھی وزیر اعظم صاحب کی طرف سے لگایا گیا ہے کہ ڈالر لوگوں نے اپنے گھر میں چھپا ے ہووے ہیں حالاں کہ 98 فیصد پاکستانیوں نے آج تک ڈالر کو ہاتھ بھی نہیں لگایا بلکہ کس اور کے ہاتھ میں بھی ڈالر نہیں دیکھا یعنی براہ راست ڈالر کا نظارہ تک نہیں کیا ہاں البتہ تصویر کی حد تک میں ڈالر سے ضرور واقف ہوں۔
مجھے لگتا ہے کہ وزیر اعظم صاحب کو چور چور کہنے کی عادت پڑ گئی ہے حالانکہ چور وزیر اعظم صاحب کے بلکل سامنے موجود ہے بس ذرا وزیر اعظم صاھب کو آئینہ دیکھنے کی ضرورت ہے
