پاکستان تحریک انصاف کے کراچی سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کو ایم پی او کے تحت اندرون سندھ کی جیلوں میں بھیج دیا گیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر اور وفاقی وزیر برائے بحری امور کو گرفتاری کے بعد دو روز قبل جیکب آباد جیل لے جایا جارہا تھا کہ اسی دوران ان کے گھر کو سب جیل قرار دینے کا نوٹی فکیشن جاری کیا گیا۔
وزارت داخلہ سندھ کی جانب سے علی زیدی کے ڈیفنس میں قائم گھر کو سب جیل قرار دیا گیا جس کے بعد انہیں جیکب آباد کے راستے سے گھر منتقل کیا گیا۔ ایک روز کے بعد علی زیدی کلفٹن کے اسپتال آئے جہاں اُن کو میڈیا سے گفتگو کرنی تھی۔
میں علی زیدی کا ناقد رہا ہوں۔ لیکن ان کی گرفتاری، گھر میں نظر بندی کا ریلیف، اسپتال میں پریس کانفرنس کی سہولت، علی زیدی کا سب کو حیران کردینا اور پھر ایک دم ان سے ساری سہولیات کا چھن جانا اور جیکب آباد کی گرم جیل میں پھینک دیا جانا۔
جمہوری جدوجہد کرنے والے سمجھ تو گئے ہوں گے ☺️ pic.twitter.com/ZMgiv86a53— Afzal Khan افضل (@Afzalkhan80s) May 18, 2023
امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ علی زیدی کو کسی ڈیل کے تحت لایا گیا ہے اور وہ محمود مولوی کے بعد پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کردیں گے البتہ انہوں نے نو مئی کے واقعات کی مذمت کی اور عمران خان کا ساتھ آخری دم تک دینے کا اعلان کیا۔
اس اعلان کے بعد جب علی زیدی گھر پہنچے تو محکمہ داخلہ سندھ نے انہیں جیکب آباد جیل بھیجنے کا حکم نامہ جاری کیا جس کے بعد پولیس کی بکتر بند میں انہیں جیل منتقل کیا۔ علاوہ ازیں پی ٹی آئی کے سینئر رہنما فردوس شمیم نقوی نے عدالت میں پیشی کے وقت عمران خان کا دفاع کیا اور پارٹی چھوڑنے والوں کو خدا حافظ کہتے ہوئے نئے چہروں کو سامنے لانے اور خود بھی ساتھ کھڑے رہنے کا اعلان کیا۔
اس کے بعد فردوس شمیم نقوی کو عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر 6 روز کے لیے جیل بھیجا تو محکمہ داخلہ سندھ نے انہیں سکھر کی جیل منتقل کردیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ فروس نقوی کینسر کے مریض ہیں اور اُن کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں۔ اہلیہ اور بچوں نے اس معاملے میں وزیراعلیٰ سندھ سے کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔
اس ساری صورت حال پر ایکسپریس میگزین سے وابستہ معروف صحافی رضوان طاہر مبین نے لکھا کہ ’ تحریک انصاف کو اب مہاجر صوبے کی حمایت کرنی چاہیے، الگ صوبہ ہوتا تو کم از کم علی زیدی اور فردوس شمیم کو سندھ کی جیلوں میں منتقل تو نہ کیا جاتا!‘۔
