Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
’مہاجر صوبہ ہوتا تو علی زیدی اور فردوس نقوی کو اندرون سندھ جیل نہ بھیجا جاتا‘ | زرائع نیوز

’مہاجر صوبہ ہوتا تو علی زیدی اور فردوس نقوی کو اندرون سندھ جیل نہ بھیجا جاتا‘

پاکستان تحریک انصاف کے کراچی سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کو ایم پی او کے تحت اندرون سندھ کی جیلوں میں بھیج دیا گیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر اور وفاقی وزیر برائے بحری امور کو گرفتاری کے بعد دو روز قبل جیکب آباد جیل لے جایا جارہا تھا کہ اسی دوران ان کے گھر کو سب جیل قرار دینے کا نوٹی فکیشن جاری کیا گیا۔

وزارت داخلہ سندھ کی جانب سے علی زیدی کے ڈیفنس میں قائم گھر کو سب جیل قرار دیا گیا جس کے بعد انہیں جیکب آباد کے راستے سے گھر منتقل کیا گیا۔ ایک روز کے بعد علی زیدی کلفٹن کے اسپتال آئے جہاں اُن کو میڈیا سے گفتگو کرنی تھی۔

امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ علی زیدی کو کسی ڈیل کے تحت لایا گیا ہے اور وہ محمود مولوی کے بعد پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کردیں گے البتہ انہوں نے نو مئی کے واقعات کی مذمت کی اور عمران خان کا ساتھ آخری دم تک دینے کا اعلان کیا۔

اس اعلان کے بعد جب علی زیدی گھر پہنچے تو محکمہ داخلہ سندھ نے انہیں جیکب آباد جیل بھیجنے کا حکم نامہ جاری کیا جس کے بعد پولیس کی بکتر بند میں انہیں جیل منتقل کیا۔ علاوہ ازیں پی ٹی آئی کے سینئر رہنما فردوس شمیم نقوی  نے عدالت میں پیشی کے وقت عمران خان کا دفاع کیا اور پارٹی چھوڑنے والوں کو خدا حافظ کہتے ہوئے نئے چہروں کو سامنے لانے اور خود بھی ساتھ کھڑے رہنے کا اعلان کیا۔

اس کے بعد فردوس شمیم نقوی کو عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر 6 روز کے لیے جیل بھیجا تو محکمہ داخلہ سندھ نے انہیں سکھر کی جیل منتقل کردیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ فروس نقوی کینسر کے مریض ہیں اور اُن کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں۔ اہلیہ اور بچوں نے اس معاملے میں وزیراعلیٰ سندھ سے کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔

اس ساری صورت حال پر ایکسپریس میگزین سے وابستہ معروف صحافی رضوان طاہر مبین نے لکھا کہ ’ تحریک انصاف کو اب مہاجر صوبے کی حمایت کرنی چاہیے، الگ صوبہ ہوتا تو کم از کم علی زیدی اور فردوس شمیم کو سندھ کی جیلوں میں منتقل تو نہ کیا جاتا!‘۔