Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اسلام آباد پولیس کا کاررنامہ، دو نابالغ بھائی گرفتار، لاک اپ | زرائع نیوز

اسلام آباد پولیس کا کاررنامہ، دو نابالغ بھائی گرفتار، لاک اپ

اسلام آباد پولیس کا کارنامہ چوری کا الزام بڑے بھائی پر گرفتار نابالغ دو چھوٹے بھائی

اسلام آباد پولیس نے بڑے بھائی پر چوری کے الزام میں دو نابالغ چھوٹے بچے بھائیوں کو گرفتار کر لیا

نابالغ بچوں کی گرفتاری پر اسلام آباد ہائیکورٹ برہم

ایس ایس پی کل بچوں کو عدالت میں پیش کریں، عدالتی حکم

تسلیمہ بی بی نامی خاتون کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کی

بچوں کی عمریں کیا ہیں، عدالت

علی شیر کی عمر بارہ سال اور حمزہ کی چودہ سال ہے، پولیس

تھانہ گولڑہ کے اہلکار 13 مئی کو بچوں کو گھر سے لے کر گئے، وکیل

تھانہ گولڑہ کی پولیس پورے خاندان کو دھمکیاں دے رہی ہے، درخواست گزار کا عدالت میں بیان

تھانہ گولڑہ پولیس کی حراست سے بچوں کو چھڑایا جائے، وکیل

ایس ایس پی کو درخواست دی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی، وکیل

ایس ایس پی اسلام آباد کو ایس ایچ او گولڑہ اور اے ایس آئی کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جائے، وکیل

بڑے بھائی کو 2012 میں عاق کر چکے پیں، اس کے کئے کی سزا معصوم بچوں کو کیسے دے سکتے ہیں، وکیل

اس عدالت کو کیا اچھا لگتا ہے آپ یونیفارم میں کھڑے ہیں، عدالت

تفتیشی اور ایس ایچ او کے خلاف ایف آئی آر درج کیوں نہیں ہوا، عدالت

عدالت نے ایس ایس پی دیگر پولیس افسران کی سرزنش کی،

ایس ایچ او کو نشان عبرت بنانا چاہئے،

یہ تمام پولیس کے افسران بچوں پر ظلم کہاں کر رہئے ہیں، چیف جسٹس اطہر من اللہ

وفاقی دارلحکومت میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ

پولیس کی حمت کیسے ہوئی کے 15 دن تک کم سن بچوں کو حبس بے جا رکھا، چیف جسٹس اطہر من اللہ

ایک ایڈیشنل سیشن جج حاظر سروس جیل چلے گئے طیبہ تشدد کیس میں، چیف جسٹس

اگر کوئی ملزم ہے تو اس کو پکڑھ لیں، عدالت

مگر بچوں کو غیر قانونی طور پر قید میں ڈالنا جرم ہے، عدالت

عدالتی بیلف کے ساتھ بھی جھوٹ بولا گیا، چیف جسٹس اطہر من اللہ

عدالت نے سماعت کل تک لئے ملتوی کر دیا،