اسلام آباد پولیس کا کارنامہ چوری کا الزام بڑے بھائی پر گرفتار نابالغ دو چھوٹے بھائی
اسلام آباد پولیس نے بڑے بھائی پر چوری کے الزام میں دو نابالغ چھوٹے بچے بھائیوں کو گرفتار کر لیا
نابالغ بچوں کی گرفتاری پر اسلام آباد ہائیکورٹ برہم
ایس ایس پی کل بچوں کو عدالت میں پیش کریں، عدالتی حکم
تسلیمہ بی بی نامی خاتون کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کی
بچوں کی عمریں کیا ہیں، عدالت
علی شیر کی عمر بارہ سال اور حمزہ کی چودہ سال ہے، پولیس
تھانہ گولڑہ کے اہلکار 13 مئی کو بچوں کو گھر سے لے کر گئے، وکیل
تھانہ گولڑہ کی پولیس پورے خاندان کو دھمکیاں دے رہی ہے، درخواست گزار کا عدالت میں بیان
تھانہ گولڑہ پولیس کی حراست سے بچوں کو چھڑایا جائے، وکیل
ایس ایس پی کو درخواست دی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی، وکیل
ایس ایس پی اسلام آباد کو ایس ایچ او گولڑہ اور اے ایس آئی کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جائے، وکیل
بڑے بھائی کو 2012 میں عاق کر چکے پیں، اس کے کئے کی سزا معصوم بچوں کو کیسے دے سکتے ہیں، وکیل
اس عدالت کو کیا اچھا لگتا ہے آپ یونیفارم میں کھڑے ہیں، عدالت
تفتیشی اور ایس ایچ او کے خلاف ایف آئی آر درج کیوں نہیں ہوا، عدالت
عدالت نے ایس ایس پی دیگر پولیس افسران کی سرزنش کی،
ایس ایچ او کو نشان عبرت بنانا چاہئے،
یہ تمام پولیس کے افسران بچوں پر ظلم کہاں کر رہئے ہیں، چیف جسٹس اطہر من اللہ
وفاقی دارلحکومت میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ
پولیس کی حمت کیسے ہوئی کے 15 دن تک کم سن بچوں کو حبس بے جا رکھا، چیف جسٹس اطہر من اللہ
ایک ایڈیشنل سیشن جج حاظر سروس جیل چلے گئے طیبہ تشدد کیس میں، چیف جسٹس
اگر کوئی ملزم ہے تو اس کو پکڑھ لیں، عدالت
مگر بچوں کو غیر قانونی طور پر قید میں ڈالنا جرم ہے، عدالت
عدالتی بیلف کے ساتھ بھی جھوٹ بولا گیا، چیف جسٹس اطہر من اللہ
عدالت نے سماعت کل تک لئے ملتوی کر دیا،
