سٹی وارڈن کراچی جس میں تقریباً 1300 وارڈن اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں جو کے ایم سی کے کسی بھی ادارے سے زیادہ ایمانداری اور جانفشانی کے اپنی ملازمت کرتے ہیں لیکن وہی محکمے کی کچھ کالی بھیڑیں ادارے کو قیام سے آج تک جون کی طرح اس کا خون پینے میں مصروف ہیں اور اُن کی خواہش ہے کہ ادارہ کبھی اپنے پیروں پر کھڑا نہ ہوسکے۔
ایسے کرپٹ عناصر ادارے کو اپنے پیروں پر اس لیے کھڑا نہیں ہونے دینا چاہتیں کیونکہ اگر ایسا ممکن ہوگیا تو ایسی صورت میں کروڑوں کے نام پر ملنے والے بجٹ پر ہاتھ صاف کرنے کے مواقع ناپید ہوجائیں گے۔
ادارے میں اس سازش کو کامیاب بنانے کے لیے گزشتہ دس برسوں سے انتظامی اور معاشی سطح پر ایسے نااہل کرپٹ نام نہاد منظور نظر افراد کو بیٹھایا گیا جو ہر آنے والے ڈائریکٹر کی آنکھ کا تارا ہوتے ہیں۔
یہ کرپٹ افراد ہر آنے والے ڈائریکٹر کی آنکھ کا تارا اس لیے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے پیدا کر کے ڈائریکٹر کی تمام ضروریات اور خواہشات کو ناجائز طریقے سے پورا کرتے ہیں، ایسے لوگوں نے ادارے میں اپنی دھاگ بیٹھا کر رکھی ہوئی ہے۔
سٹی وارڈن میں موجود انسپیکٹر کی کثیر تعداد کو 14 اسکیل ہونے کے باوجود پوائنٹس (ٹریفک سگنلز) پر صرف شو پیس بنا کر بیٹھایا ہوا ہے جبکہ تمام تر اختیارات اور طاقت اُن لوگوں کے پاس ہے جنہیں عرف عام میں بھتہ مافیا کہا جاسکتا ہے۔
یہ معاملات ایسے کرپٹ افراد کے سپرد کر کے جانفشانی سے کام کرنے والے انسپیکٹر کی تضحیک کروائی جاتی ہے حتیٰ کہ اُسے وارڈنز کی حاضریاں لگانے اور انہیں ڈیوٹی سے ہٹانے کا اختیار بھی نہیں دیا گیا اور اگر کوئی افسر ایسا کرنے کی کوشش کرے تو وارڈنز کی کرپٹ ویجلنس مافیا اُسے دھونس دھمکی سمیت دیگر طریقوں سے قابو کرتی ہے۔
کرپٹ افراد کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ وارڈنز کا تبادلہ اس لیے نہیں کرتے کہ سڑکوں پر کرپشن کے بازار جو کھلے ہوئے ہیں اور اوپر سے نیچے تک مکمل تائید و حمایت کے ساتھ چل بھی رہے ہیں اُن کے دروازے بند ہوجائیں گے۔
اس ادارے میں ایمانداری سے ڈیوٹی کرنا مشکل نہیں ناممنکن بنادیا گیا اور اگر کوئی آواز اٹھ بھی جائے تو اُس کا گلہ ٹرانسفر یا چارج شیٹ جاری کرکے دبا دیا جائے گا۔
میئر کراچی سے درخواست ہے کہ 1300 خاندانوں کی مشکلات اور پریشیانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کرپٹ مافیا سے ادارے کو مکمل نجات دلائیں تاکہ کراچی کے مسائل حل ہوسکیں۔
