اسلام آباد: حکومت پاکستان نے جسٹس فائز عیسی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس دائر کردیا۔
سپریم کورٹ کے رپورٹر صبیح الحسنین نے خبر دی ہے کہ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس فائز عیسی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس دائر کر دیا ہے۔
فائز عیسیٰ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی اہلیہ کے اثاثے ظاہر نہیں کیے، صحافی محسن نواز نے ان کی ٹویٹ پر تبصرہ کیا کہ ”مطلب یہ کہ قاضی فائز عیسیٰ بطور چیف جسٹس قبول نہیں۔ “ اس پر صبیح الحسنین نے جواب دیا کہ یہ 2023 کی تیاری ہے، وہ سال جب الیکشن ہوں گے اور جسٹس فائز عیسیٰ چیف جسٹس آف پاکستان بنیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ”دو مزید جج، ایک سندھ ہائی کورٹ سے اور ایک لاہور ہائی کورٹ سے“۔
دوسری جانب آج سپریم کورٹ میں ہونے والی ایک کیس کی سماعت کے دوران جسٹس فائز عیسی نے خاوند کے قتل کے الزام میں گرفتار خاتون کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ پولیس کا ادارہ جعلی مقدمات کے ذریعے پیسے بنانے کے لیے نہیں ہے۔
سپریم کورٹ میں جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت عدالت نے پنجاب پروسیکیوشن اور پولیس پر برہمی کا اظہار کیا اور شوہر کے قتل کے الزام میں گرفتار خاتون کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
