مراد علی شاہ صاحب آپ اورنگی کے بھی وزیراعلیٰ ہیں

اورنگی ٹاؤن میں اتوار کے روز ہونے والے مظاہرے پر پولیس کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس میں 6 زخمی ہوئے اور ایک شخص گزشتہ روز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے عباسی شہید اسپتال میں دم توڑ گیا۔

سادہ لباس اہلکار مظاہرین پر فائرنگ کرتے ہوئے

کل رات مقتول کی نماز جنازہ ادائیگی کے وقت پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر تعینات کی گئی اور اورنگی ٹاؤن تھانہ اقبال مارکیٹ کے افسران نے 65 سالہ اصغر امام کو ٹارگٹ کلر اور پولیس پر حملہ کرنے والا ملزم بنا دیا، جائے وقوعہ پر موجود اہل خانہ کے مطابق اصغر امام مظاہرے میں شریک نہیں تھا بلکہ وہ اتوار کے روز اوور ٹائم کے بعد گھر کی طرف جارہا تھا۔

اصغر امام گلی کے کونے پر کھڑے تھے کہ مظاہرین پر پولیس کی جانب سے فائرنگ کی گئی تو وہ وہاں سے دیگر افراد کی طرح بچنے کے لیے بھاگے مگر سادہ لباس اہلکار کی جانب سے اُن پر فائرنگ کی گئی، گولی اُن کی کمر پر لگی اور وہ گر گئے تاہم انہیں اہلکار اٹھا کر تھانے لے گئے اور زبردستی اعترافی بیان لے کر 40 منٹ کے بعد ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔

تھانے میں زبردستی اعترافی بیان لینے کے دوران بزرگ شہری اصغر امام کے جسم سے خون کافی زیادہ بہہ گیا تھا جس کے باعث اسپتال میں انہیں فوری طور پر آئی سی یو میں منتقل کیا گیا، اصغر امام دمے کے مریض تھے اس لیے حالت مزید بگڑتی چلی گئی۔

اسے سے متعلق : ” ان کے سروں پر گولیاں مارو “

اہل علاقہ کے مطابق پولیس کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ اپنے پیٹی بھائی (ڈکیت) کا بدلا لینے کے لیے کی گئی کیونکہ گزشتہ ہفتے بدھ کے روز محلے کی چوکیدار کمیٹی نے فجر کے وقت دو مسلح افراد کو پکڑا اُن میں سے ایک شخص تشدد کے باعث ہلاک ہوا اور ایک کو پولیس کے حوالے کیا گیا۔

اہل علاقہ کی حیرانی اُس وقت بڑھی کہ جب انہوں نے ہلاک ہونے والے ڈاکو کی جیب سے ملنے والے پولیس کارڈ کو دیکھا، تشدد کے باعث ہلاک ہونے والا ڈاکو اہلکار منگھوپیر تھانے میں تعینات تھا اور وہ مسلح گروہ کے ساتھ ان علاقوں میں کارروائیاں کررہا تھا۔

اصغر امام عباسی شہید اسپتال میں دم توڑ گئے

اصغر امام کی شہادت کے بعد پولیس اہلکاروں نے 15 روز پرانی ایف آئی آر درج کی اور اُس میں 65 سالہ بزرگ شہری کو بطور دہشت گرد نامزد کردیا، ساتھ ہی ڈکیتیوں کے خلاف ہونے والے احتجاج کی نئی ایف آئی آر 250 افراد کے خلاف درج کی گئی اور اُس میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئیں۔ اب اورنگی ٹاؤن نمبر 10 اور 11 میں چار نوجوانوں کے ساتھ بیٹھنے پر ممانعت ہے اور پولیس نے گرفتاری کا اعلان کررکھا ہے۔

علاقہ مکینوں کو پولیس پر اب بالکل بھی اعتبار نہیں رہا اور وہ یہ کہتے دکھائی دے رہے ہیں کہ “صاحب اب کس پر اعتبار کریں کیونکہ سادہ لباس اہلکار گھروں کو لوٹنے میں مصروف ہیں”۔

اس تمام تر صورتحال میں وزیر اعلیٰ سندھ کا کردار انتہائی مشکوک رہا شاید وہ اورنگی ٹاؤن کو کراچی اور سندھ سے علیحدہ سمجھتے ہیں یا پھر وہ خود بھی پولیس کے اس ظلم پر اُن کے سہولت کار ہیں اور وہاں ہونے والے پولیس کے مظالم ماؤں بہنوں کی عصمت دری، معصوم نوجوانوں کی گرفتاریوں خاص طور پر اصغر امام کی شہادت کو بہتر سمجھ رہے ہیں۔

اورنگی ٹاؤن کے علاقے میں پیدا ہونے والی صورتحال کی ذمہ داری جہاں وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز سندھ پر عائد ہوتی ہے کیونکہ ابھی تک وہاں کی عوام کو یقین دہانی نہیں کروائی گئی کہ اب مسلح ڈکیت اُن کے گھروں میں لوٹ مار نہیں کریں گے۔

مراد علی شاہ صاحب اس تحریر کا مقصد آپ کو یاد دلانا ہے کہ اورنگی ٹاؤن اور کراچی پاکستان کا حصہ ہے، یہاں ہونے والی جرائم کی وارداتوں کا نوٹس لیں اور اصغر امام کی شہادت کے پیچھے ملوث اہلکاروں کو قانون کے مطابق سزا دیں اور مکینوں کے اندر پیدا ہونے والے احساس محرومی کو ختم کریں اور کم از کم ایک مذمتی بیان جاری کریں۔

تعارف

محمد عمیر دبیر صحافی ہیں اور معاشرے میں پیدا ہونے والی ناانصافیوں کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں:

اپنا تبصرہ بھیجیں