کورنگی پولیس کی شرمناک حرکت
اے ایس آئی راؤ اعجاز کی شراب خانے کے قریب سے شراب کی بوتل مسکراتے ہوئے وصول کرتے ہوئے ویڈیو منظرِ عام پر آگئی
ایک دوست نے کیا خوب لکھا ہے ویڈیو میں شراب کی بوتل لیتا ہوا اے ایس آئی راؤ اعجاز جب مرے گا تو شہید کہلائے گا ۔۔
سوچ کر بھی شرم آتی ہے کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کو سدھارنے والے آئی جی سندھ سید کلیم امام اور ایڈیشنل آئی جی ڈاکٹر امیر احمد شیخ صاحب کی اتنی محنت و جدوجہد کو ایسے پولیس والے خاک میں ملا رہے ہیں
آئی جی سندھ صاحب آپ خود اس ویڈیو کو دیکھیں اس اے ایس آئی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں لیکن کب تک ہماری پولیس ایسی حرکتیں کرتی رہیں گی جس سے پولیس کا مورال بڑھنے کے بجائے خاک میں مل جائے
آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی صاحب سب سے پہلے کراچی کے تمام تھانوں کی حدود سے شراب خانے مکمل طور پر بند کروائیں
کیونکہ یہ شراب خانے والے کسی غیر مسلم یا مسلم کا شناختی کارڈ یا اس کا مذہب دیکھ کر شراب نہیں دیتے وہ صرف پیسوں کی خاطر سب کو شراب فروخت کرتے ہیں
آج اس ویڈیو میں جو پولیس والا شراب خانے سے شراب کی بوتل لے رہا ہے اگر یہی شراب کی بوتل کسی عام شہری کے پاس سے مل جائے تو اس پر سارے قانون لگادیئے جاتے ہیں
کیا اس ویڈیو پر آپ کوئی ایکشن لیں گے اس اے ایس آئی کے خلاف کوئی محکمہ جاتی کارروائی کریں گے ۔۔۔
ہمارے شہر کراچی سے وہ چیزیں کبھی ختم نہیں ہوسکتی جس کےلئے آئی جی سندھ صاحب آپ اور ایڈیشنل آئی جی سندھ صاحب آپ مسلسل جدوجہد کررہے ہیں
1 مضرِ صحت گٹکا ماوا ۔۔
کیونکہ یہ عام شہری کے ساتھ ساتھ آپ کے پولیس ڈیپارٹمنٹ کے 75 فیصد اہلکار و افسران کھاتے ہیں
2 : شراب بند نہیں ہوسکتی کیونکہ تقریباً 60 فیصد پولیس اہلکار پولیس اسٹیشن کے اندر اور پولیس موبائل میں دوران ڈیوٹی اس کا استعمال کرتے ہیں جب انہیں یہ چیزیں نہیں ملتی پھر یہ عام شہری کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں یہ آپ بھی جانتے ہیں ۔۔ اور اگر یہ شراب پی لیتے ہیں تو پھر یہ انسان کو انسان نہیں سمجھتے ۔۔ یہ بات بھی آپ اچھی طرح جانتے ہیں ۔۔
ایک محب وطن پاکستانی اور شہر کراچی کا باسی ہونے کے ناطے آپ سے گزارش ہے شہر کراچی کو گٹکا ماوا ۔ شراب ۔ اور منشیات ۔ چرس ۔ ہیروئن ۔ اور دیگر نشہ آور چیزوں سے پاک کریں
