Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
Musharraf pressured me to read statement on nuclear proliferation, claims Dr Qadeer

مشرف نے دھمکی دے کر میڈیا پر اپنا لکھا بیان پڑھوایا، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا انکشاف

لاہور: محسن پاکستان اور نامور سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرف نے امریکا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جوہری پھیلاؤ کے حوالے سے اعترافی بیان دھونس دھمکی کے ذریعے لیا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط تحریر کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ سابق صدر اور آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف نے امریکی مداخلت اور اُس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے مجھے دباؤ کا نشانہ بنایا اور اپنا ہی لکھا ہوا بیان ٹیلی ویژن پر پڑھنے پر دباؤ ڈالا،

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کہنا تھا کہ مشرف نے وعدہ کیا تھا کہ وہ کچھ روز بعد میڈیا پر خطاب کر کے تمام چیزوں کو نارمل کردیں گے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا اور مجھے اُس کے بعد حراست میں لیا گیا۔

محسنِ پاکستان کا کہنا تھا کہ اس بات کے گواہ سابق وزیراعظم چوہدری شجات حسین اور نامور وکیل سید محمد ظفر بھی ہیں جن کے سامنے مشرف نے مجھے دباؤ کا نشانہ بنایا اور یقین دہانی کرائی کہ وہ جوہری پھیلاؤ کے حوالے سے بیان کی مکمل وضاحت کریں گے اور بتائیں گے کہ سب عالمی دباؤ کے تحت کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی جانب سے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سردار شمیم احمد کو  ارسال کیے جانے والے خط پر صوبائی حکومت نے کوئی جواب نہین دیا۔

محسن پاکستان کے استحصال کا سلسلہ جاری، ڈاکٹر القدیر خان کی سالگرہ کا گزر گیا

یاد رہے کہ محسن پاکستان نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں انہوں نے اپنے اوپر عائد ہونے والی پابندی کو ہٹانے کی استدعا کرتے ہوئے اپیل کی تھی کہ انہوں بھی عام پاکستانیوں کی طرح آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دی جائے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کہنا تھا کہ جسٹس چوہدری اعجاز کی جانب سے ریلیف دیے جانے کا عندیہ دیا گیا تھا البتہ گزشتہ تین چار سالوں کے دوران سیکیورٹی حکام اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دے رہے جبکہ میں اپنے گھر جانا چاہتا ہوں۔

اُن کا کہنا تھا کہ میں کسی بھی شادی یا خاندانی تقریب میں شرکت نہیں کرسکتا، سیکیورٹی کے نام پر مجھے گھر میں ہی رہنے کی ہدایت کی جاتی ہے جبکہ میں بھی عام پاکستانیوں کی طرح آزادانہ نقل و حرکت کرنا چاہتا ہوں۔

مشرف کا ڈاکٹر قدیر پر سنگین الزام، پاکستان دنیا بھر میں شرمندہ