اسلام آباد: محسن پاکستان و ممتاز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سالگرہ کا دن ایک بار پھر خاموشی سے گزر گیا، حکومت نے اس ضمن میں کوئی تقریبات کا انعقاد نہیں کیا۔
دو بار نشان پاکستان کا ایوارڈ حاصل کرنے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان یکم اپریل 2019 کو اپنی 83ویں سالگرہ منارہے ہیں۔
محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان 1936 کو بھارت کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے، تقسیم برصغیر کے بعد آپ والدین کے ہمراہ کراچی منتقل ہوئے اور پھر ناظم آباد میں سکونت اختیار کیا۔ بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونِ ملک چلے گئے اورانہوں نے دنیا بھر کے ممتاز تعلیمی اداروں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے انتہائی نامساعد حالات میں وطن عزیر پاکستان کو دنیا بھر میں ناقابل تسخیر بنا دیا جس کے نتیجے میں پاکستان مسلم دنیا کی پہلی اور دنیاکی ساتویں ایٹمی طاقت بن گیا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ان کی ملک کیلئے گراں قدر خدمات کے سلسلے میں کئی عزازات کے ساتھ ساتھ دو مرتبہ نشان امتیاز سے بھی نوازا گیا ۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ ہونے والا نارواں سلوک کوئی نیا نہیں بلکہ یہ حکومتوں کی ریت رہی ہے، دو برس قبل محسن پاکستان کے پاس اتنے بھی پیسے نہیں تھے کہ وہ قربانی کرسکتے۔
ماضی میں ایک انٹرویو میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان اس بات کا انکشاف بھی کرچکے کہ اُن کا استحصال مہاجر ہونے کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔
