Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
فادز ڈے، ایک بیٹی کا والد کو انوکھے انداز سے خراج تحسین | زرائع نیوز

فادز ڈے، ایک بیٹی کا والد کو انوکھے انداز سے خراج تحسین

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یعنی 16 جون کو فادز ڈے یعنی والد کا عالمی دن منایا گیا، اس روز کو یادگار بنانے کے لیے سب نے اپنے اپنے والد کو

خصوصی طور پر خراجِ تحسین پیش کیا۔

سوشل میڈیا صارف لائبہ زینب نے اپنے والد کو انوکھے انداز سے خراج تحسین پیش کیا اور لکھا کہ ’’ یہ میرے ڈانس پارٹنر ہیں جو میوزک سُن نہیں سکتے لیکن میرے ساتھ ردھم میں ڈانس کرتے ہیں۔ ہماری لڑائی یو پی ایس کب لگے گا سے شروع ہوتی ہے، وائرنگ کا کام کب کریں سے ہوتی ہوئی یہ شادی کیوں نہیں کرتی پر بھی ختم نہیں ہوتی‘‘۔

انہوں نے لکھا کہ نرسری پریپ میں گھر کے ساتھ ہی سکول تھا جہاں پڑھنے جاتی تھی (ایڈمیشن کیسے ہوا یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے)، کلاس کے بچے تنگ کرتے تھے کہ تمہارے ابو بول اور سُن نہیں سکتے۔ ایک دن اسی بات پر روتے ہوئے گھر آئی تو ماما نے اچھی خاصی طبیعت درست کی اور اگلے دن کلاس کے بچوں کی خوب عزت افزائی ہوئی کہ میں اور میرے بچے اس کے ابا کے حصے کا بھی بول لیتے ہیں بتاؤ کتنی باتیں کروانی ہیں۔

اُس کے بعد سے ہم تو یہ انجوائے کرتے ہیں، کبھی ایک بھائی گارڈ کو کہہ دیتا ہے کہ یہ پرنسپل کے علاوہ کسی سے بات نہیں کرتے اور دوسرا اپنی یونورسٹی میں مشہور کروا دیتا ہے کہ ابا ایس ایچ او ہیں، ویسے ابا ہمارے گھر کے تو ایس ایچ او ہی ہیں، کیونکہ وہ خراب چیز کو ٹھیک کر دیتے ہیں اور ہر صحیح چیز کو  خراب کرنے کے لیے اسے پیچ کس سے کھول کر بیٹھ جاتے ہیں۔

لائبہ نے اپنی کہانی ٹوئٹر تھریڈ کی صورت میں شیئر کی

ابا نے موبائل خریدا تو اُنہیں فادرز ڈے پر ہیپی فادرز ڈے کا میسج کیا، اُنہوں نے اپنے طریقے سے ٹائپ کئے ہوئے میسج میں بولا کہ انہوں نے تھوڑی دیر تک گھر آنا ہے اور میں جہاں جانا چاہ رہی ہوں خود چلی جاؤں۔

اس جواب پر میں خوب روئی اور باقی سب گھر والے آج بھی ہنستے ہیں۔ خیر یہ سب تو چلنا ہی ہے۔ میں یہ نہیں کہتی کہ پاپا دُنیا کے بیسٹ ابا ہیں لیکن یہ ضرور کہہ سکتی ہوں کہ باپ باپ ہی ہوتا ہے۔