کراچی سے تعلق رکھنے والی نامور اداکارہ ذہین طاہرہ کے انتقال کی خبریں زیرگردش تھیں البتہ اُن کے صاحبزادے سے سوشل میڈیا پر ہونے والی قیاس آرائیوں کی سختی سے تردید کردی۔
ذہین طاہرہ کے بیٹے کامران خان نے آغا اسپتال کے ترجمان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ والدہ کی طبیعت پہلے سے بہتر ہے اور انہیں شام تک وینٹی لینٹر سے بھی ہٹا دیا جائے گا۔
دوسری جانب آغا خان اسپتال کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اداکارہ زرین طاہرہ کو آئی سی یو سے وارڈ منتقل کردیا گیا، اُن کی طبیعت اب پہلے سے بہت زیادہ بہتر ہے اور وارڈ میں ڈاکٹروں کی ٹیم مسلسل اُن کی نگرانی کررہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ زرین طاہرہ کو دل کے عارضے کی شکایت ہے، درازی عمر کے باعث بھی ان کو ریکوری میں وقت لگ رہا ہے، اہل خانہ کو ان کی صحت کے حوالے سے باخبر رکھا جارہا ہے جبکہ ابھی اُن کے چند ٹیسٹ بھی کرائے جائیں گے۔ اہل خانہ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز نے ڈاکٹروں کی جانب سے ملاقات پر پابندی ہے۔
کراچی سے تعلق رکھنے والی اداکارہ ذہین طاہرہ نے کئی دہائیوں تک سرکاری ٹیلی ویژن کے ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے، وہ پی ٹی وی کی تاریخ کی سب سے سینئر اور بزرگ اداکارہ قرار دی جاتی ہیں۔
ذہین طاہرہ نے خدا کی بستی، عروسہ، دستک، دیس پردیس، کالی آنکھیں، کہانیاں، وقت کا آسمان، ماسی اور ملکہ، راستے دل کے، کیسی ہیں دوریاں، شمع، دل دیا دہلیز، چاندنی راتیں، آئینہ، تجھ پہ قربان سمیت سینکڑوں ڈراموں میں کام کیا۔
حکومتِ پاکستان نے اداکاری کے میدان میں لازوال خدمات کے اعتراف میں ذہین طاہرہ کو 2013ء میں تمغۂ امتیاز سے نوازا تھا۔
پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی سینئر ترین اداکارہ ذہین طاہرہ کے صاحبزادے کامران خان نے اپنی والدہ کے انتقال کی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی طبیعت میں اب بہتری آئی ہے۔
ذہین طاہرہ کو چند روز قبل دل کا دورہ پڑنے کے بعد کراچی کے نجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں طبیعت زیادہ خراب ہونے پر انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا تھا۔
