جماعت اسلامی کے سابق ٹاؤن ناظم کے قتل کا الزام، متحدہ کارکنان 7 سال بعد باعزت بری، پرویز محمود قتل کا فیصلہ جاری، ٹارگٹ کلرز قرار دیے جانے والے ایم کیو ایم کے تین کارکنان بے گناہ نکلے
کراچی: انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے جماعت اسلامی کے سابق ٹاؤن ناظم ڈاکٹر پرویز محمود قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے متحدہ سے تعلق رکھنے والے تین کارکنان کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے بری کردیا۔
کراچی سینٹرل جیل میں انسداد دہشت گردی کمپلیکس میں خصوصی عدالت نمبر 16 نے جماعت اسلامی کے سابق ٹاؤن ناظم ڈاکٹر پرویز محمود قتل کیس کا محفوظ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے ملزمان مسعود عرف کالا، آصف عرف آلٹو، بابر عرف موٹا کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا اور عدالت نے تینوں ملزمان کا رہائی کا پروانہ جاری کردیا۔ قبل ازیں پولیس نے کہا تھا کہ اس قتل کے مفرور ملزمان میں عمران نیازی، طاہر قادیانی، زبیر عرف پپا، عبدالرحمن، سابقہ سیکٹر انچارج فیصل، جوائنٹ سیکٹر انچارج ریحان، فیضان الیاس، سمیر نائی، شکیل موٹا شامل ہیں اور ان ملزمان نے ڈاکٹر پرویز محمود کی ٹارگٹ کلنگ کا اعتراف کیا۔ پولیس کے مطابق ڈاکٹر پرویز محمود کو کے ڈی اے چورنگی کے قریب نشانہ بنایا گیا، حادثے میں پرویز محمود کے ہمراہ ان کے دوست خلیق اللہ جاں بحق ہوئے، ملزمان نے اپنے ٹارگٹ کلر اسکواڈ کے ساتھ مقتولین کو نشانہ بنایا اور کراچی تنظیمی کمیٹی کے انچارج حماد صدیقی کے کہنے پر ڈاکٹر پرویز محمود کو قتل کیا۔
