ایک بارش کے بعد وفاق کے نشتر سندھ حکومت پر ، میئر کی وفاق سے قربتیں قریب ایم کیو ایم کے مطالبات پر وفاقی وزرا کا خصوصی دورہ کراچی، انتظامات کے حل کی یقین دہانی
کراچی: شہر قائد میں ہونے والی مون سون بارشوں کے بعد مختلف علاقوں میں ابتر صورتحال پیدا ہوئی جو صوبائی اور بلدیاتی حکومتوں سمیت شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بنی، دو روز کی بارشوں میں کرنٹ لگنے سے 16 جبکہ مجموعی طور پر مختلف حادثات میں 26 افراد جاں بحق ہوئے۔
وزیر اعلیٰ سندھ اور وزیربلدیات پہلے روز کی بارش کے بعد شام میں فوٹو سیشن کرانے نکلے البتہ اُس سے قبل میئر کراچی شہر کی مختلف شاہراؤں کا دورہ کر کے اپنے اختیارات کا سب کچھ بتا چکے تھے، وسیم اختر نے فوری طور پر وفاقی حکومت کو خط بھی لکھ ڈالا جو دو گھنٹے کے دوران ہی علی زیدی نے موصول ہونے کی تصدیق کی۔
عمران خان کی خصوصی ہدایت پر تحریک انصاف کے وزرا بھی بارش ختم ہونے کے اگلے روز کراچی آئے اور اتحادیوں کے ساتھ بیٹھ کر پریس کانفرنس کی جس میں پیپلزپارٹی تنقید کی زد پر تھی، دوسری طرف سندھ حکومت نے ایک بار پھر کراچی میں 170 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا اعلان کردیا۔
گٹر ، سیوریج سمیت ندی نالوں میں ہونے والی طغیانی سے میئر نے ہاتھ اٹھائے اور بتایا کہ کچرا اٹھانا اُن کے اختیار میں نہیں اور نہ ہی واٹر بورڈ کا محکمہ اُن کے ماتحت آتا ہے، انہوں نے پی پی حکومت پر شدید تنقید بھی کی۔ بارش کے دوران تحریک انصاف کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کراچی کی سڑکوں پر کہیں نظر نہیں آئے۔
دوسری جانب پی پی نے بلدیاتی حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد لوکل باڈیز کے نظام کو لپیٹنے کی تیاری بھی شروع کردی، اس ضمن میں قانونی آرا مانگ لی گئی ہیں، آئین کے مطابق بلدیاتی حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد نئے طرز کا سیٹ اپ لایا جائے گا۔
دوسری جانب سندھ میں بلدیاتی انتخابات قریب آنے کے خدوخال دکھائی دینے لگے، کراچی میں سیاسی ومذہبی جماعتوں نے اس سلسلے میں تیاریاں شروع کر دی، شہر میں ان دنوں جلسے ،جلوسوں اور بنیادی مسائل پر احتجاج تیزی اختیار کر رہے ہیں، سیاسی جماعتیں کارکنان کو بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کے حکمنامے جاری کررہی ہیں، سندھ میں بھی بلدیاتی نظام کی بساط لپٹنے کے قریب دکھائی دے رہا ہے۔
متبادل کے طور پر نیا بلدیاتی نظام لایا جا رہا ہے یا کچھ اور تاحال واضح نہ ہوسکا، سندھ میں بلدیاتی نمائندگان کی اصل مدت 2020 میں مکمل ہو رہی ہے، اٹھارویں ترمیم کے تحت بلدیاتی نظام رائج یا کالعدم کرنے کے اختیارات صوبے کے پاس ہیں، سندھ میں بلدیاتی نظام کی بساط لپیٹنی ہے تو اس کیلئے نیا بلدیاتی نظام لانا ضروری ہے، ایسا لگتا ہے کہ سندھ حکومت بلدیاتی نظام لپیٹنے کیلئے سرپرائز دے گی، ایم کیوایم پاکستان بھی منتخب بلدیاتی نمائندگان کو عوامی مسائل حل کرنے پر زور دیتی دکھائی دے رہی ہے، ایم کیوایم پاکستان کی بلدیاتی کمیٹی آئندہ بلدیاتی انتخابات کیلئے امیدواروں کے انٹرویو بھی لے رہی ہے، اگر بلدیاتی انتخابات موجودہ بلدیاتی نظام کے تحت ہوئے، تو ایم کیوایم پاکستان کو انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے پر نظر ثانی کرنی ہوگی، موجودہ بلدیاتی نظام میں انکے بلدیاتی نمائندگان شہریوں کے مسائل دور کرنے میں تقریبا ناکامی سے دوچار دکھائی دئیے، مئیر کراچی وسیم اختر نے دلبرداشتہ ہو کر یہاں تک کہہ ڈالا کہ موجودہ بلدیاتی نظام میں آئندہ بلدیاتی انتخابات نہ ہی ہوں تو بہتر ہے۔
بلدیاتی نمائندگان کی بساط لپٹنے کا معاملہ نئے بلدیاتی نظام سے منسلک ہے، سندھ حکومت میں عجلت میں موجودہ بلدیاتی نظام کو لپیٹا تو ایک عدالتی پٹیشن دائر ہونے پر بلدیاتی نمائندگان اپنی اپنی سیٹوں پر دوبارہ موجود ہوں گے، دوسری جانب سجن یونین کے صدر ذوالفقار شاہ کی پیشن گوئی کہ 14 اگست تک بلدیاتی نظام لپیٹ دیا جائے گا۔ اس لحاظ سے درست نہیں دکھائی دے رہی کہ عیدالضحی کا بڑا ایونٹ سر پر ہے، سندھ حکومت آلائش آپریشن کو کسی صورت بھی سبوتاژ نہیں ہونے دے گی، دو ضلعی بلدیات میں عیدالضحی آپریشن بلدیاتی ادارے سر انجام دینگے، اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنرز ،میونسپل کمشنرز ہنگامی طور پر فرائض سر انجام دینے سے گریز ہی کریں گے، لیکن سید ذوالفقار شاہ کی یہ پیشن گوئی 14 اگست کے بعد حتمی شکل اختیار کر سکتی ہے
