Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
رینجرز کو بنیاد بنا کر پی پی کا بلیک میلنگ کا فیصلہ | زرائع نیوز

رینجرز کو بنیاد بنا کر پی پی کا بلیک میلنگ کا فیصلہ

این ایف سی ایوارڈ کے نام پر پی پی کا سندھ سے رینجرز ہٹانے پر غور

اندرون سندھ رینجرز کے اختیارات پولیس کی معاونت تک محدود، کراچی سے رینجرز واپس بھیجنے پر غور

وزیراعلیٰ سندھ نے ممکنہ بڑی گرفتاریوں سے قبل اعلیٰ سطح پر مشاورت شروع کردی

کراچی: سندھ کی حکومتی جماعت پیپلزپارٹی کے قائدین اپنے ممکنہ گرفتاریوں سے خوفزدہ ہیں اور انہوں نے اگلا لائحہ عمل مرتب کرلیا جس کے تحت پہلے مرحلے میں صوبے سے رینجرز کے اختیارات کو انتہائی محدود کردیا جائے گا۔ محکمہ داخلہ سندھ کی طرف سے ارسال کردہ تجاویز میں وزیراعلیٰ سے کہا گیا ہے کہ وفاق کی جانب سے این ایف سی ایوارڈ نہ ملنے پر سندھ حکومت وفاق کو صاف جواب دے کہ ہم رینجرز کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے۔

تجویز دی گئی ہے کہ رینجرز کو پہلے مرحلے میں کراچی سے ہٹا کر اس پر ہونے والے اخراجات سے پولیس میں نئی بھرتیاں کی جائیں گی اور افرادی قوت کو مزید وسعت دی جائے گی جس کے تحت مقامی و سیاسی جماعتوں کے کارکنان کو محکمے میں بھرتی کیا جائے گا۔

ذرائع کو ملنے والی اطلاع کے مطابق رینجرز کی واپسی کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ نے اعلیٰ سطح پر مشاورت شروع کردی اور فیصلہ کیا ہے کہ اخراجات اب پولیس پر خرچ کیے جائیں ، مراد علی شاہ نے آئین کے آرٹیکل 148 سے بچنے کے لیے سندھ کے سینئر پولیس افسران کو بھی اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا اور مٹینگ بلائی جس میں انہیں سنہرے خواب دکھائے گئے جبکہ وزیراعلیٰ نے دیگر محکموں اور اداروں سے اجلاسوں کی منظوری بھی دے دی تاکہ وفاق کے کسی بھی اقدام کا بھرپور جواب دیا جا سکے۔