Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
اے آر وائی، ڈان اور سما کے پالیٹیکل رپورٹرز میں‌ شدید جھگڑا، ایک دوسرے پر سنگین الزامات | زرائع نیوز

اے آر وائی، ڈان اور سما کے پالیٹیکل رپورٹرز میں‌ شدید جھگڑا، ایک دوسرے پر سنگین الزامات

کراچی: اے آر وائی، سماء اور ڈان نیوز کی پالیٹیکل بیٹ (ایم کیو ایم، پی ایس پی) کرنے والے رافع حسین، عمران احد، محمد علی حفیظ کے درمیان شدید تنازع کھڑا ہوا جس کے بعد دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف ایف آئی اے میں درخواست دینے کا دعویٰ بھی کیا۔

یہ تنازع دراصل دو گروپ کا ہے جن میں سے ایک ایم کیو ایم پاکستان کی مثبت خبریں اور دوسرا پی ایس پی کی خبریں اپنے چینلز پر دینے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں میئر کراچی وسیم اختر نے بھی ایک تقریر میں سما چینل پر تنقید کی تھی کیونکہ صفائی مہم اور دیگر اختیارات کے معاملے پر اُن کا پوسٹ مارٹم اور بغیر مؤقف لیے خبریں چلائی جارہی ہیں اور لیاقت قائم خانی کا تعلق بھی اُن ہی سے جوڑا جارہا ہے۔

تنازع میں شدت اُس وقت سامنے آئی کہ جب نیب نے سابق ڈائریکٹر محکمہ باغات کے گھر چھاپہ مارا اور وہاں سے خزانہ برآمد کیا جس میں پرتعیش گاڑیاں بھی تھیں، یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ لیاقت قائم خانی وسیم اختر کے قریبی ہیں اور میئر بھی برابر کی کرپشن میں ملوث ہیں، جبکہ گھر سے برآمد ہونے والی گاڑیاں ایم کیو ایم قیادت کی ہیں۔ جبکہ اصل صورتحال یہ ہےکہ لیاقت قائم خانی کو محکمہ باغات کا ڈائریکٹر مصطفیٰ کمال کی نظامت کے دوران دوبارہ لگایا گیا جبکہ اُس سے قبل انہیں محکمے سے فارغ کردیا گیا تھا، 2003 میں ہونے والی نیب کی تحقیق بھی انہوں نے اپنے سیاسی اثرورسوخ پر بند کروائی جس کے بعد لیاقت قائم خانی کو ناظم کراچی اور گورنر سندھ کی سفارش پر تمغہ امتیاز برائے حسن کارکردگی سابق صدر آصف علی زرداری سے دلوایا گیا۔

میئر اور ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت کے خلاف جو گروپ کام کررہا ہے اُس میں کُل ملا کر پانچ لوگ عمران احد ڈان چینل، محمد علی حفیظ سما، امجد قائم خانی بول (جو حال ہی میں دبئی سے واپس آئے) اور دو شامل ہیں،  جبکہ حمایتی گروپ میں رافع حسین، جنرل کونسلر برائے یوسی 28 (بلدیہ عالیہ وسطی) محمد فیضان و دیگر شامل ہیں۔

یہ سرد جنگ گزشتہ کئی روز سے جاری تھی مگر اُس کو طول اُس وقت ملا جب عمران احد اور اُن کے ساتھیوں نے یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے اے آر وائی کے رپورٹر اور جنرل کونسلر کے خلاف ایف آئی اے میں شکایت درج کرادی جس پر دونوں کی طلبی ہوئی اور انہوں نے تحریری درخواست جمع کرا کر معافی مانگی۔  (گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر رافع حسین سے منسوب کر کے ایک پیغام چلایا گیا جس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ اے آر وائی کے رپورٹر دیگر سے معافی مانگ لی اور معافی نامہ ایف آئی اے میں جمع کرادیا)۔

تین روز بعد رافع حسین نے خاموشی توڑی اور بتایا کہ معافی نامہ اُن سے منسوب کیا گیا نہ تحریری درخواست انہوں نے دی اور نہ ہی ایف آئی اے نے طلب کیا، انہوں نے رپورٹرز کو بلیک میلر گروہ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ اب انہیں بے نقاب کریں گے اور انہوں نے ایف آئی اے میں متذکرہ رپورٹرز کے خلاف درخواست دائر کردی۔


رافع حسین کے خلاف چلایا گیا پیغام لفظ بہ لفظ

سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا کرنا گلے پڑ گیا، سماء کراچی کے رپورٹر محمد علی حفیظ اور ڈان نیوز کے رپورٹر عمران احد خان کے خلاف فیس بک اور واٹس آپ پر جعلی پوسٹ پھیلانے والے ایف آئی اے سائبر کرائم سیل کے ہتھے چڑھ گئے، ڈی ایم سی سینٹرل کے دو کونسلر محمد فیضان ، سعد ملک اور رپورٹر محمد رافع حسین نے ایف آئی اے سائبر کرائم سیل ٹیم کے سامنے اپنے غلط اور منفی عمل کا اعتراف کرلیا، ایف آئی اے حکام کو اپنی غلطی تسلیم کرکے معافی نامہ جمع کروادیا، منفی اور جھوٹا پروپیگنڈا کرنے پر معافی مانگتے ہیں محمد فیضان، سعد ملک ، محمد رافع حسین کا بیان، سوشل میڈیا پر سماء اور ڈان نیوز کے رپورٹرز کے خلاف کچھ روز قبل منفی پروپیگنڈا کیا گیا تھا، ایف آئی اے نے اس منفی اور جھوٹے پروپیگنڈے کے خلاف تحقیقات شروع کی تھی۔


محمد علی حفیظ کی جانب سے جمع کرائی جانے والی درخواست لفظ بہ لفظ

Sir,

I am Muhammad Ali Khan working as a Journalist from more then 15 Years in Karachi.. i am also member of Karachi Press Club. Nowadays i am associated with Samaa Tv, From past 20 days i am digging the truths in KMC and DMCs. And on airing the corruption in these two departments with facts and figures, but some people who are also part of these corrupt people are spreading wrong messages against myself on social media.These people are also doing my character assassination. Please Take strong action against them.. I have the Screen Shots of these people. There name and phone numbers are :

Name : Faizan Khan (General Councillor) DMC Central
Contact : 0316-xxxxxxxx

Name : Saad Mallick (Youth Councillor) DMC Central
Contact : 0343xxxxxxx

Name : Rafay Hussain
Contact : 0333-xxxxxxx

Name : Faizan Khan
Contact : 0335xxxxxxx

Thank you
Muhammad Ali Khan
0321-xxxxxxxxx


رافع حسین کا جوابی پیغام لفظ بہ لفظ

لعنة الله على الأكاذيبین ،، جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ،، بے شمار لعنت ۔۔۔ حق اور سچ ہمیشہ سرخرو اور اللہ کی تائید حاصل کرتا ہے
معزز سوشل میڈیا کے ممبران ، صحافی برادری اور دوست احباب اسلام و علیکم
چند دنوں سے ایک صحافی نما بلیک میلر سینئر صحافی اے آر وائی نیوز رافع حسین کے خلاف خود اور دوسروں سے مہم چلوا رہا ہے کہ سینئر صحافی اے آر وائی نیوز رافع حسین نے اسکے خلاف غلط الزام عائد  کرکے معذرت کی ۔۔۔۔
(حسرت ان غنچوں پر جو بن کھلے مرجھا گئے)
اس منفی پروپیگنڈے پر رافع حسین کچھ چیزیں واضح کرکے سچائی کو سامنے لا رہے ہیں ۔۔۔
میں {رافع حسین} اس شخص کو صحافی نہیں کہے سکتا کیونکہ میرا ضمیر گوارہ نہیں کرتا اس لیے ایک شخص کہے کر مخاطب کروں گا ۔۔۔ اس نے خود سے اور دوسروں کے ساتھ ملکر میرے متعلق جعلی دستاویز سوشل میڈیا پر میری تصویر اور شناختی کارڈ کی کاپی کے ساتھ چلائی ۔۔۔اور اسکو معافی کا نام دیا ۔۔۔
میں پہلے اس دستاویز کا جواب دے دوں اس جعلی دستاویز کے تمام مندرجات کو مسترد کرتا ہوں ، اسکے کسی بھی لفظ سے میرا کوئی تعلق نہیں ۔۔نہ ہی وہ میری ہینڈ رائٹنگ ہے ۔۔۔ جس طریقے سے اس شخص نے جو خود کو صھافی کہلوانے کی کوشش کرتا ہے اس نے میرے شناختی کارڈ کا غلط استعمال کیا جو دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے ۔۔۔اور مجھے شک ہے کہ یہ شخص اپنے مذموم عزائم کے لیے میرا شناختی کارڈ کہیں اور استعمال نہ کر لے ۔۔۔
اس سے متعلق میں نے جب ایف آئی اے سے رابطہ کیا اور انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ سوشل میڈیا پر چلنے والا یہ دستاویز غلط اور من گھڑت ہے اور اس جھوٹے دستاویز کو استعمال کرکے میرے خلاف چلائی جانے والی یہ مہم بے بنیاد ، من گھڑت ، جھوٹی ، فریب پر مبنی ہے اور میری کردار کشی کرنے کے مترادف ہے،اس حوالے سے ایف آئی اے نے ایک لیٹر بھی جاری کیا ہے جو میں اس تحریر کے ساتھ منسلک کررہا ہو جسکو دیکھنا پڑھنا اور تسلی کرنی ہے وہ کرلے ۔۔۔۔ اس لیٹر کے ذریعے ایف آئی اے نے مجھے ایسے بلیک میلروں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اختیار بھی دیا ہے اور انشاء اللہ چند دنوں میں ان بلیک میلروں کے خلاف میں قانونی چارہ جوئی کرنے جا رہا ہوں ،،اور باقی چیزوں کا بھی میں کھل کا جواب دونگا ۔۔۔ایک بات اور جو بھی مواد مختلف گروپس ، فیس بک پر مختلف لوگوں کی جانب سے ان بلیک میلر اشخاص کی کرپشن کے خلاف چل رہا ہے ۔۔۔ اب لگتا ہے وہ مواد بلکل صحیح ہے اور میں بھی اب اس بات پر مسلمہ یقین رکھتا ہوں کہ وہ سچ ہے ۔۔
اب بہت جلد اس صحافی نما بلیک میلر اور اسکے حامیوں کی کرپشن کو ثبوتوں کے ساتھ ثابت کروں گا اور سامنے لائوں گا
انتطار کرنا ۔۔۔۔۔
سچ کی فتح ۔۔۔۔اب اپنے جھوٹ پر لکیر پیٹو
اور اگر زیادہ تکلیف ہو تو برنال لگائو😂

محمد رافع حسین
اے آر وائی نیوز
پولٹیکل رپورٹر

ذرائع نیوز کے نمائندے نے جب ایف آئی اے کے افسر سے شکایت موصول ہونے کے بارے میں جاننا چاہا تو انہوں نے کہا جیسے ہی موصول ہوگی ہم کارروائی کا آغاز کریں گے، درخواست ملنے یا نہ ملنے کی انہوں نے فی الحال تصدیق یا تردید نہیں کی۔

(نوٹ: اس تحقیقاتی خبر سے متعلق دیگر دستاویزات ہمارے پاس محفوظ ہیں)